Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

اومی کرون تیزی سےپھیلنےوالا لیکن کم خطرناک ہے:ماہرین امراض سینہ

SAMAA | - Posted: Dec 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago

ماہرین امراض سینہ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کا نیا ویرینٹ اومی کرون زیادہ پھیلنے والا وائرس ضرور ہے مگر یہ خطرناک نہیں لہٰذا شہریوں کو چاہیے کہ وہ افواہوں سے خوفزدہ نہ ہوں بس احتیاط کا دامن تھامے رکھیں۔

کراچی میں جاری پاکستان چیسٹ سوسائٹی کی کانفرنس کے موقع پر انڈس اسپتال کے شعبہ امراض سینہ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سہیل اختر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ اومی کرون ایک نیا ویرینٹ ہے جس کے بارے میں صرف اتنا پتہ ہے کہ اس میں 30 سے زیادہ میوٹیشنز ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایمی کرون کے اب تک جتنے بھی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں وہ ہلکی نوعیت کے اور کم خطرناک ہیں اور اس سے متاثرہ بیشتر مریضوں کو اسپتال داخل ہونے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئی۔

پروفیسر سہیل اختر نے کہا کہ اس کے بارے میں صرف اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ کورونا کی وبا ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ہمیں اب بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے، ماسک پہننا چاہیے، اپنی ویکسینیشن مکمل کرانی چاہیے ، خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے اورافواہوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اومی کرون بہت زیادہ پھیلنے والا ویرینٹ ضرور ہے لیکن خطرناک نہیں اور اس حوالے سے لوگوں میں غلط تاثر پھیلا ہوا ہے۔

پروفیسر سہیل اختر کا کہنا تھا کہ اومی کرون کے خطرناک نہ ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیں احتیاط نہیں کرنی یا ویکسین نہیں لگوانی کیوں کہ اومی کرون کرونا کے دیگر قسموں کی بہ نسبت زیادہ تیزی سے لگتا ہےگو اس کی شدت دوسروں سے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی سی آر ٹیسٹ کرونا وائرس کی تشخیص کرتا ہے تاہم ایسا نہیں کہ وہ ویرینٹس کو ڈیٹیکٹ کرتا ہے کیوں کہ کسی بھی بیماری میں اضافہ اس بیماری کے آنے کے دو یا چار ہفتوں کے بعد ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اومی کرون کو ابھی دریافت ہوئے دو ہفتے بھی مکمل نہیں ہوئے تو ممکن ہے اس کے اثرات اگلے ہفتے یا 4 ہفتوں بعد سامنے آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے سردیوں میں پھیلنے کی وجہ یہ ہے کہ لوگ سردیوں میں گھروں کے اندر زیادہ رہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس موسم میں دنیا بھر میں وائرسز پھیلتے ہیں اور نزلہ زکام سردیوں میں اسی وجہ سے ہوتا ہے چوں کہ کھڑیاں دروازے بند ہونے سے وینٹی لیشن کم ہوتی ہے اس لیے ایک سے دوسرے میں پھیلنے والی بیماریاں سردیوں میں زیادہ ہوتی ہیں۔

پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے صدر پروفیسر نثار احمد راؤ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ اب تک کی تحقیق کے مطابق اومی کرون اتنا خطرناک نہیں ہے اور پھیپھڑوں کو اتنی شدت سے متاثر نہیں کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اومی کرون اب تک دنیا کے 40 ممالک میں رپورٹ ہوا ہے اور اس نے جن لوگوں کو متاثر کیا ہے ان میں معمولی علامات ہیں۔ اومی کرون سے متاثر ہونے والے مریضوں میں اب تک ایسا کچھ نہیں دیکھا گیا کہ انہیں آکسیجن کی ضرورت پڑی ہو اور شدید نمونیا ہوا ہو یا مریض کو وینٹی لیٹر پر جانا پڑا ہو۔

پروفیسر نثار احمد راؤ نے بتایا کہ کوئی بھی وائرس اب کسی پر اثر انداز ہوتا ہے تو وقت کے ساتھ ساتھ  اس کے ویرینٹ ڈیولپ ہوتے ہیں جو شروع میں خطرناک ہو سکتے ہیں لیکن بعد ازاں کم خطرناک ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کی شدت اور انفیکٹویٹی کم ہوجاتی ہے  انہوں نے مزید بتایا کہ لوگ اب تک کی رپورٹس کے لحاظ سے یہ متاثرہ افراد کو معمولی طور پر بیماری کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے ویرینٹ اومی کرون کی دوسروں میں منتقلی سے متعلق زیادہ نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ اس پر تحقیق جا ری ہے لیکن اگر دوسروں میں تیزی سے منتقل ہو رہا ہوتا تو اب تک پوری دنیا میں پھیل چکا ہوتا۔ انہوں نے پھر واضح کیا کہ ابھی یہ ویرینٹ آیا ہے اور اس پر تبصرہ قبل از وقت ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے اگراومی کرون 15 منٹ میں پھیپھڑے تباہ کر رہا ہوتا تو اب تک نئے ویرینٹ سے کئی لوگ مر چکے ہوتے اور عالمی ادارہ صحت ایمرجنسی نافذ کر چکا ہوتا۔

پروفیسر نثار احمد راؤ نے کہا کہ سرد موسم میں لوگ بند جگہوں پر ہوتے ہیں، کھڑکیاں دروازے بند ہوتے ہیں اور ایسے مین کوئی فرد کھانستا ہے تو بہت سارے جراثیم ہوا میں آجاتے ہیں اور بند کمرے میں لوگ اس سے زیادہ ایکسپوز ہوتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں اگر کھڑکیاں دروازے کھلے ہوں تو کوئی کھانسے تو کراس وینٹی لیشن کی وجہ سے جراثیم باہر چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا اب جو جراثیم کمرے کے اندر موجود ہیں ان کا لوگوں کو بیمار کرنا یا نہ کرنا اس پر منحصر ہے کہ وہ جراثیم کتنے طاقتور ہیں اور جس انسان میں گئے ہیں اس کی قوت مدافعت کیسی ہے، اگر قوت مدافعت اچھی ہے تو ان پر اتنا اثر نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ  شروع میں لوگوں میں خوف تھا کہ ویکسین سے خون جمنے کی بیماری ہوجائے گی اب دنیا میں اتنے لوگوں نے ویکیسن لگوا لی ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اس لیے اب اس خوف سے باہر نکل آنا چاہیے۔

پروفیسر نثار احمد راؤ کا کہنا تھا کہ تمام ویکسینز ایک جیسی ہیں اور ویکیسن کی شاپنگ غیر ضروری ہے کیوں کہ تمام ویکسینز کے رزلٹس ایک جیسے ہیں۔ ان کا مزید کہا تھا کہ ویکسین کی صرف پہلی ڈوز لگوالینے سے وہ قوت مدافعت نہیں بنتی جو کرونا ہونے کی صورت میں شدید بیماری سے محفوظ رکھ سکے اس لیے جن لوگوں نے ویکسین کی پہلی خوراک لی ہے انہیں دوسری بھی مقررہ وقت میں لے لینی چاہیے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube