Tuesday, January 18, 2022  | 14 Jamadilakhir, 1443

خسرہ اور روبیلا کی ویکسین سے متعلق متضاد خیالات

SAMAA | - Posted: Nov 26, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 26, 2021 | Last Updated: 2 months ago

بچوں کو پیدائش کے وقت ٹیکے لگنے کے بعد  دوبارہ خسرہ اور روبیلا کی اضافی خوراک لگنے پر والدین، بچے اوراساتذہ پریشان ہیں۔

 خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی قومی ویکسی نیشن مہم نے اسکولوں کی  انتظامیہ کوالجھا کر رکھ دیا ہے۔کچھ والدین سنی سنائی اورسوشل میڈیا پر پھیلائی گئی گمراہ کن  باتوں کی وجہ سےبچوں کی ویکسی نیشن سے گریزکررہے ہیں۔

پاکستان میں قومی ادارہ صحت کی نمائندہ ڈاکٹردرناز نےسماء سےگفتگو میں خسرہ اور روبیلا  کی ویکسین سے متعلق پھیلائی گئی افواہوں کوبےبنیاد قراردیا او بتایا کہ جن بچوں کو پیدائیشی ٹیکےلگ چکے ہیں ان کی  بھی ویکسی نیشن کرانا ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ پہلی بار ویکسین کے بعد بوسٹر ضروری ہے کیوں کہ کبھی بھی ویکسین کا اثر100 فیصد نہیں ہوسکتا۔

خسرہ سے زیادہ تر لوگ آگاہ ہیں مگر روبیلا وائرس کو کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ روبیلاکو جرمن میزل بھی کہا جاتا ہے مگر اس کا خسرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روبیلا وائرس سے لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو بچانا زیادہ ضروری ہے۔

روبیلا وائرس کےصحت پر اتنے سنگین اثرات ہونے کے باوجود  والدین کا ویکسی نیشن پر آمادہ نہ ہونا انتظامیہ کے لیئے چیلنج بنا ہوا ہے۔اسکولوں میں ویکسی نیشن کے خلاف مزاحمت دیکھنےمیں آرہی ہےوہیں  خصوصی بچوں کے اسکول میں یہ کام بہت آسانی سے ہورہا ہے ۔

پاکستان میں رواں سال خسرہ کے لاکھوں کیس رپورٹ ہوئے جبکہ 800 اموات بھی ہوئی ہیں۔ماہرین امراض اطفال کا کہنا ہے کہ شہری بچوں کو لازمی ویکسین لگوائیں تاکہ مرض کو جڑ سے ختم کیا جاسکے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube