Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

کیاقوم کوزہرپلانے والے ڈیری فارمرزحکومت وعدلیہ سے بھی طاقتور ہیں؟

SAMAA | - Posted: Nov 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Nov 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago

ڈیری فارمرز کی زیادہ پیسہ کمانے کی دھن اور حکومت کی بے توجہی کے باعث کراچی کے عوام نا صرف دودھ مہنگا خریدنے پر مجبور ہیں بلکہ وہ غذائیت کے نام پر خود کو اور اپنے بچوں کو زہر بھی پلا رہے ہیں۔

شہر کے تقریباً تمام ہی ڈیری فارمرز کی جانب سے دودھ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کیلئے بھینسوں کو ہارمون بڑھانے والے انجیکشن لگائے جاتے ہیں جو ممنوع ہونے کے باوجود انہیں بڑی آسانی سے دستیاب ہوجاتے ہیں۔

بھینسوں کو لگائے جانے والے اس بوسٹن انجیکشن کے نتیجے میں حاصل کردہ دودھ خواتين ميں بانجھ پن کے ساتھ بچوں میں قبل از وقت بلوغت اور کينسر جيسے مہلک مرض کا سبب بنتا ہے۔

دودھ بڑھانے والا یہ ممنوعہ ٹیکہ روزانہ لاکھوں جانوروں کو لگایا جاتا ہے اور اتنی بڑی تعداد میں یہ انجیکشن جنوبی افریقا اور آسٹریلیا سے پہلے دبئی اور پھر وہاں سے پاکستان اسمگل ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ جس آسانی سے داخل ہوجاتا ہے اسی آسانی سے ڈیری فارمرز کو بھی مل جاتا ہے، جسے روکنے پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے۔

پیدائش سے لڑکپن تک بہتر نشو و نما اور تندرستی کیلئے دودھ بچوں بڑوں سب کی اولین ضرورت ہے، اس لئے دودھ خریدنا عوام کی مجبوری ہے لیکن اس بوسٹن انجيکشن کا يہ مکروہ دھندا روکنے والا اور شہر کے ایسے خود غرض ڈیری فارمرز کو نکیل ڈالنے والا کوئی نہيں۔

ڈیری فارمرز کا کہنا ہے کہ ایک بوسٹن 20 بھینسوں کو لگایا جاتا ہے جس سے انہیں کئی گنا فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ اگر ایک بھینس 2 کلو دودھ دیتی ہے تو انجیکشن لگنے کے بعد اس سے ایک من تک دودھ حاصل ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 99 فیصد ڈیری فارمرز اپنی بھینسوں کو یہ انجیکشن لگاتے ہیں جو ان کے کاروبار کیلئے ضروری ہے۔

انسانوں کے علاوہ بوسٹن بھیسنوں کیلئے بھی نقصاندہ ہے اور عدالت نے دودھ بڑھانے والے اس انجیکشن کے نقصانات کو دیکھتے ہوئے اس کی خرید و فرخت پر پابندی لگائی ہوئی ہے لیکن اس انجیکشن کا کاروبار کرنے والا مافیا اتنا طاقتور ہے کہ اب یہ انجیکشن ڈیری فارمرز کو ان کی دہلیز پر پہنچادیا جاتا ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس کی قیمت 3 گنا زیادہ وصول کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود ڈیری فارمرز کو حاصل ہونے والا منافع اتنا زیادہ ہے کہ وہ اسے بخوشی خرید لیتے ہیں۔

ڈیری فارمرز کو ہونیوالی اس نقصاندہ انجیکشن کی ہوم ڈیلیوری کے علاوہ یہ اسمگل شدہ زہر چوری چھپے میڈیکل اسٹورز پر بھی فروخت کیلئے دستیاب ہوتا ہے، تاہم اسے خریدنے کیلئے ضرورت جان پہچان کی ہوتی ہے۔

بوسٹن انجيکشن کا يہ مکروہ دھندا انتہائی منظم طريقے سے چل رہا ہے ليکن اس کی فروخت اور استعمال روکنے کے ذمہ دار محکمہ لائيو اسٹاک کے ڈپٹی ڈائريکٹر ڈاکٹر حبيب اللہ جمالی اس معاملے سے لاعلم دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر چھاپے مارے گئے تھے تاہم یہ کام اب بھی ہورہا ہے اس کا انہیں علم نہیں۔

محکمہ لائیو اسٹاک کے ڈاکٹر آغا اسد اللہ نے اس حوالے سے بتایا کہ ہارمونز کے انجیکشن لگا کر حاصل کيا گيا دودھ خواتين میں بانجھ پن کے ساتھ قبل از وقت بلوغت اور کينسر جيسے مہلک مرض کا سبب بھی بنتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس انجیکشن سے حاصل کردہ دودھ کا پینا بچوں ميں کولون کينسر، خواتين ميں بريسٹ کينسر، مردوں ميں پروسٹيٹ کينسر کا باعث بن سکتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube