Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

دنیا کو ایسے ہیروز کی ضرورت ہے

SAMAA | - Posted: Oct 28, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 28, 2021 | Last Updated: 1 month ago

پاکستان کے آنے والے مستقبل کو معذوری سے بچانے کیلئے شمائلہ رحمانی مہم کے دوران کئی کئی میل پیدل سفر کرکے 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلاتی ہیں۔

اس ملک کیلئے شمائلہ رحمانی ایک ایسی ہیرو ہیں، جس کی پاکستان سمیت دنیا کو شدید ضرورت ہے۔   شمائلہ رحمانی پاکستان کے شہر راول پنڈی میں چلائی جانے والی انسداد پولیو مہم کا حصہ ہیں۔ مائیکروسافٹ کے بانی بِل گیٹس نے بھی شمائلہ رحمانی کی خدمات کو سراہتے ہوئے مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر انہیں ہیرو قرار دیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کیلئے منظم اور مربوط مہم کے دوران غیرمعمولی خدمات انجام دینے والے افراد کو دنیا بھر سے منتخب کرتے ہیں اور اس بار انہوں نے پاکستانی باصلاحیت پولیو ورکر کا انتخاب کرتے ہوئے انہیں ہیرو قرار دیا ہے۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر شیئر کی گئی اپنی ٹوئٹ میں بل گیٹس کا لکھنا ہے کہ بلند حوصلہ پاکستانی خاتون پولیو ورکر شمائلہ رحمانی پیدل ایک گھر سے دوسرے گھر جاتی ہیں اور 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں۔

بل گیٹس نے شمائلہ رحمانی پر بنی ویڈیو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی شیئر کی اور شمائلہ رحمانی کو میدان عمل کا ہیرو قرار دیا ہے۔ بل گیٹس نے لکھا کہ پاکستان سے پولیو کے خاتمے کا عزم لیے شمائلہ ایک عظیم مثال ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مہم کے دوران اکثر شمائلہ رحمانی کو شدید مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کئی خواتین معلومات کم ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کو قطرے پلوانے سے منع کردیتی ہیں اور غصہ بھی کرتی ہیں لیکن شمائلہ ہمت نہیں ہارتیں اور ایسے والدین کی ویکسین سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرتی ہیں۔

بِل گیٹس نے شمائلہ رحمانی کا تعارف بھی کرایا۔ انہوں نے لکھا کہ شمائلہ رحمانی پاکستانی پولیو ویکسنیٹر ہیں، وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں کہ ان کی کمیونٹی کا ہر بچہ اس بیماری سے محفوظ رہے۔

انسداد پولیو مہم کے لیے بنائی جانے والی اس ویڈیو میں شمائلہ نے پاکستان میں مہم کے دوران پیش آنے والے واقعات اور مسائل اور ان کے حل کے حوالے  سے گفتگو کی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سن 1994 میں ملک نے جب پہلی مرتبہ پولیو سے متعلق ڈیٹا اکھٹا کرنا شروع کیا تو ایک سال میں 22 ہزار پولیو کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ سن 2015 سے ہر سال پولیو کیسز کی تعداد 100 سے کم رہی ہے۔

سن 2019 میں جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 4 کروڑ بچے پانچ سال سے کم عمر ہیں۔

پولیو مہم کا آغاز

پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی ادارے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے ہنگامی اقدام کے بعد سال 1988ء سے لیکر اب تک پولیو کے خلاف جاری عالمی جنگ میں گراں قدر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ محتاط اعدادو شمار کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں دنیا بھر میں پولیو کیسز کی تعداد میں ٪99 تک کمی واقع ہوئی ہے۔

سال 1988ء میں پوری دنیا سے لگ بھگ 350000 کے قریب پولیو کیسز ریکارڈ کیے گئے جو کہ حیران کن حد تک کمی کے بعد سال 2012ءمیں صرف 223 رہ گئے تھے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سال 1988ء میں پولیو سے متاثرہ ممالک کی تعداد 125 سے زائد تھی جو کہ اب صرف جنوبی ایشیا کے دو ممالک پاکستان اور افغانستان تک محدود ہو کررہ گئی ہے۔

سال 1988ء سے اب تک 200 سے زائد ممالک،2 کروڑ رضا کاروں کےغیرمعمولی تعاون اور20ارب ڈالر کی بین الاقوامی مالی امداد کے ذریعےتقریباَ 5.2ارب بچوں کوپولیو کے خلاف حفاظتی حصارفراہم کیا جاچکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1کروڑ سے زائد ایسے بچے جو کہ ممکنہ طور پراس مرض کے باعث معذوری کا شکار ہوسکتے تھے وہ آج پولیو کے خاتمے کے لیے جاری اس پروگرام کے باعث صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube