Friday, September 24, 2021  | 16 Safar, 1443

کرونا ویکسین: پاکستان اور دنیا کی صورتحال

SAMAA | - Posted: Jan 22, 2021 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 22, 2021 | Last Updated: 8 months ago

فوٹو: ٹوئٹر

کرونا وائرس کی دوسری اور تیسری لہر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی امیر ممالک میں کوویڈ-19 ویکسین کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے، جب کہ غریب ممالک اب بھی ویکسین کا انتظار کررہے ہیں۔

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ہم 2021 کی دوسری سہ ماہی میں ویکسینیشن شروع کردیںگے، تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ پاکستان میں ایمرجنسی یا مکمل استعمال کیلئے منظور شدہ 8 ویکسینوں میں سے کون سی ویکسین استعمال کی جائے گی۔

دنیا بھر میں ویکسین کی افادیت اور کون کون سے ممالک شامل ہیں۔

فائزر ویکسین

موڈرنا ویکسین

گیمالیا ویکسین

کینسوینو ویکسین

سینوفرم ویکسین

بھارت بائیوٹیک 

 

پاکستان نے سینوفرم ویکسین خریدنے کا فیصلہ کیا

گزشتہ سال 2020 میں دسمبر کے آخر میں وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اعلان کیا کہ کابینہ کی کمیٹی نے کوویڈ-19 ویکسین کیلیے چین کی سینوفرم (ویکسین) خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر سائنس نے ٹوئٹر پر اطلاع دی کہ ابتدائی طور پر سائنو فرم ویکسین کی 12لاکھ ڈوز خریدی جائیں گی۔ یہ ویکسین2021 کی پہلی سہ ماہی میں فرنٹ لائن ورکرز کو بلا معاوضہ لگائی جائیں گی۔

اس سے قبل سندھ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ویکسین جنوری کے وسط میں پاکستان آئے گی۔ تاہم اگلے ہی روز صوبائی حکومت نے کہا کہ وفاقی حکومت نے تاخیر کا اشارہ دیا، جب کہ اسی روز وفاقی کابینہ نے ویکسین کے حصولی کے قواعد میں نرمی کی۔ صوبائی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے ویکسین کوآرڈینیشن سیل اور عہدیداروں کو ہدایت کی ہے کہ ویکسین آنے کے بعد کراچی ایکسپو سینٹر میں ڈوز لگائی جائیں گی۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے اعلان کیا کہ سندھ حکومت جنوری کے آخر تک ویکسین کی پہلی کھیپ پہنچنے کی توقع کررہی ہے۔

ڈریپ نے سینوفرم، آکسفورڈ – آسٹرا زینیکا کو ہنگامی منظوری

گزشتہ سال 16 دسمبر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ڈریپ نے آکسفورڈ آسٹرا زینیکا کوویڈ 19 ویکسین کو ہنگامی طور پر استعمال کی اجازت دے دی ہے۔

اس بیان کے بعد سندھ کی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہے کہ جب تک وفاقی حکومت کی منظوری نہیں مل جاتی ہے تب تک ویکسین نہیں درآمد کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا، “بدقسمتی سے ، پاکستان آخری ملک ہے جس نے ابھی تک ویکسین لگانے کا حکم نہیں دیا ہے، ویکسین خریدنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ یہ کام نہیں کرسکتے ہیں تو انہیں صوبائی حکومت کو ویکسین لینے اور ان کا انتظام شروع کرنے کی اجازت دینی چاہئے۔

ویکسین کی خریداری

وزیراعظم کے معاون صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ چینی کمپنیوں سینوفرم اور کینسوینو سے ویکسین سے بات چیت جاری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پہلی سہ ماہی کے آخر تک ملک میں ویکسین کی تقریبا ۱کروڑ ڈوزیز دستیاب ہوںگی۔

پاکستان کوویڈ۔19 ویکسین رجسٹریشن

حکومت کے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) نے 10جنوری کو فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز کیلیے رجسٹریشن کا آغاز کردیا ہے۔ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز فیڈرل ہیلپ لائن 1166پر فون کرکے اندراج کراسکتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube