Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > صحت

قرنطینہ کا طریقہ ایجاد کرنے والا مسلم ماہر طب کون؟

SAMAA | - Posted: Sep 21, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 21, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
Corona afp

فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کی طرح دنیا بھر میں کرونا وائرس کے اثرات تاحال موجود ہیں اور جس شخص میں کرونا کی تصدیق ہوجائے اسے مجبوراً تقریبا دو ہفتوں کے لیے خود کو قرنطینہ میں رکھنا پڑتا ہے۔

انسان کے لیے خود کو دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ میں رکھنا بظاہر مشکل کام ہے لیکن وبائی مرض سے بچنے کے لیے فی الحال یہی حل موجود ہے۔

ترک سرکاری خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق وبائی مرض سے بچنے کے لیے خود کو ’’قرنطینہ‘‘ میں رکھنے کا طریقہ کار کوئی دور حاضر کی بات نہیں بلکہ یہ ایک قدیم طریقہ ہے جسے مسلم ماہر طب ابن سینا نے ایجاد کیا تھا۔

ابن سینا اسلامی سنہرے دور کے ایک مشہور طبیب، ماہر فلکیات، مفکر اور مصنف گزرے ہیں۔ جنہوں نے پہلی مرتبہ سن 1025 میں پانچ جلدوں پر مشتمل اپنے طبّی انسائیکلوپیڈیا قانون طب میں امراض کے پھیلاؤ کو قابو میں کرنے کی غرض سے قرنطینہ کے استعمال پر زور دیا تھا۔ ابن سینا نے امراض کی تشخیص میں چھوٹے چھوٹے جراثیم سے پھیلے امراض کا تجزیہ اپنی تصنیف میں بیان کیا ہے۔

Ibn Sina

اس دریافت کے صدیوں بعد ان کی تصدیق مائیکرو اسکوپ سے کی گئی لہٰذا ابن سینا کی شخصیت کافی دور اندیشی کی حامل تھی۔ ’’الاربعینیہ‘‘ (یعنی 40 روز تک مشاہدے میں رکھنے کی تعبیر) انہوں نے پیش کی جس کا مقصد امراض کے پھیلاو کو روکنے کا ایک طریقہ تھا۔

تیرہویں صدی میں وینس پر حملہ کرنے والی کالی وبا کے دوران بحری جہازوں کے تمام عملے کو خشکی پر قدم رکھنے سے روکنے کے لیے 40 روز تک جہازوں پر ہی رکھا گیا۔ وینس کے باسیوں نے اس طریقہ کار کو قرنطینہ کا نام دیا جہاں سے اس نام کے استعمال کا رواج عوام ہوا۔

ابن سینا کی قرنطینہ کی ایجاد مشرق و مغرب دونوں میں خاصی مقبول ہوئی۔ ابن سینا کی قانونی طب نامی تصنیف کا بارہویں صدی میں اسپین میں لاطینی زبان میں ترجمہ ہوا جبکہ اٹلی میں یورپ کی قدیم ترین جامعات میں شامل بولونا یونیورسٹی میں ابن سینا کی تصانیف تیرہویں صدی کے دوران طبّی تدریس و عمل میں شامل کی گئیں۔

پاکستان میں اب تک کرونا وائرس کے کیسز 3 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں جبکہ 6 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ جا چکے ہیں۔ تین لاکھ کے قریب افراد وبائی مرض سے صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube