Wednesday, November 25, 2020  | 8 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > صحت

پاکستان میں سگریٹوں کی قیمتوں کا گورکھ دھندا

SAMAA | - Posted: Jun 4, 2020 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 4, 2020 | Last Updated: 6 months ago

دنیا بھر میں سگریٹوں کے استعمال میں کمی کا رجحان پایا جاتا ہے جس کی وجہ قیمتوں میں اضافہ ہے۔ تاہم، یہ پالیسی ایک ایسے ملک میں کامیاب نہیں ہو سکتی جہاں کی مارکیٹ ایسی سگریٹوں سے بھری ہوئی ہو جو مقامی طور پر تیار کی گئی ہوں اور اُن کے تیار کرنے والے ٹیکس چوری میں ملوث ہوں۔

پاکستان میں ہر سال ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں میں اضافے کے باعث سگریٹوں کی قیمت میں اضافے کے باوجود استعمال میں کوئی کمی نظر نہیں آ رہی ہے۔

حکومت پاکستان نے ستمبر 2018ء میں قیمتوں کی بنیاد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 46 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ اُس وقت ملک میں سگریٹوں کا سالانہ استعمال 80ارب سگریٹیں تھا سال 2019ء میں ایک مرتبہ پھر ایکسائز ڈیوٹی میں 32 فیصد اضافہ کر دیا گیا۔ اِس کے باوجود، سگریٹوں کے استعمال کے مجموعی رجحان میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی بلکہ بعض ماہرین کی رائے میں اِس میں مزید اضافہ ہو گیا۔

ایک معروف ریسرچ فرم کی جانب سے منعقد کیے گئے آن لائن ویبی نار کے مطابق تمباکو کی مصنوعات کا شمار بھی اْن مصنوعات میں ہوتا ہے جن کی طلب بہت زیادہ ہے۔

حکومت پاکستان نے سگریٹوں کے ایک پیک کی کم سے کم قیمت 62 روپے فی پیک مقرر کر رکھی ہے۔ یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ اس قسم کے اقدامات کا مقصد سگریٹ نوشی پر قابو پانا ہے لیکن اِس کے مخالف اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کی ایک اہم ترین وجہ سستی، غیر قانونی اور ممنوع سگریٹوں کی دستیابی ہے۔

آسانی سے دستیاب اور گھٹیا معیار کی یہ سگریٹیں مقامی طور پر تیار کی جاتی ہیں اور سگریٹ پینے والوں کے لیے ایک مناسب متبادل کا کام کرتی ہیں۔

ایسے افراد، جو قانونی طور پر مقرر کردہ قیمت پر سگریٹ نہیں خرید سکتے ہیں وہ ایسے برانڈ خریدنے لگتے ہیں جن کی تیاری اور فروخت میں ٹیکس چوری شامل ہو اور عام طور پر ایسے برانڈز 30-40 روپے فی پیک کی شرح سے فروخت ہوتے ہیں۔

پاکستان میں یکطرفہ اقدامات کی وجہ سے غیرقانونی سگریٹوں کا شعبہ ترقی کر رہا ہے۔ محض ایک دہائی کے دوران غیر قانونی سگریٹوں کا مارکیٹ میں حصہ 25.3 سے بڑھ کر 41.9 فیصد ہوگیا۔ اِس سے نہ صرف سگریٹوں کا قانونی شعبہ متاثر ہوا بلکہ اس کا اثر حکومتی محصولات پر بھی ہوا ہے۔

ایک تخمینے کے مطابق غیر قانونی طور پر سگریٹس تیار کرنے والے اِن اداروں کی وجہ سے حکومت پاکستان کو سالانہ 44 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو پاکستان کے بنیادی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے پالیسیاں بنانا اور نافذ کرنا چاہیے جو وسیع تر تناظر رکھتی ہوں اور ساتھ ہی حقیقی معنوں میں مؤثر اقدامات بھی کرنا چاہیے بجائے اِس کے کہ دیگر ایسے ممالک میں استعمال کیے سولوشنز پر یہاں بھی، بغیر سوچے سمجھے، عمل درآمد شروع کر دیا جائے جہاں کے حالات پاکستان کے حالات سے یکسر مختلف ہوں۔

WhatsApp FaceBook

Comments are closed.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube