ہوم   > صحت

کیماڑی: پراسرار گیس سے ہلاکتیں 8 ہوگئیں

SAMAA | - Posted: Feb 17, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Feb 17, 2020 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو : آن لائن

کراچی کے علاقے کیماڑی میں پراسرار زہریلی گیس کے اثرات دوسرے روز بھی جاری ہیں، دو اور افراد زندگی کی بازی ہار گئے، رات 11 بجے تک مزید 20 سے زائد افراد کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، تمام افراد کو سانس لینے میں تکلیف اور آنکھ و ناک میں جلن سمیت سردرد اور الٹی آنے کی شکایت ہے۔

کیماڑی میں پراسرار گیس سے پیر کی رات گئے 2 اور افراد اسپتال میں دم توڑ گئے جس کے باعث اب تک ہلاکتوں کی تعداد 8 ہوگئی ہے جبکہ اسپتالوں میں متاثرہ افراد کی تعداد 110 سے تجاوز کرگئی ہے، جاں بحق نوجوان کی شناخت عمران کے نام سے ہوئی جو کیماڑی میں ضیاء الدین اسپتال میں زیر علاج تھے۔

پیر کو 5 متاثرہ افراد کو کیماڑی کے ضیاء الدین اسپتال جبکہ دیگر افراد کو برہانی، کے پی ٹی، سول اور جناح اسپتال منتقل کیا گیا، متاثرین میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے، متاثرہ افراد میں ایک ٹی وی چینل کی رپورٹنگ ٹیم کا ڈرائیور بھی شامل ہے، میڈیا ٹیم کیماڑی میں موجود تھی۔ ڈرائیور کو سر میں درد اور الٹی کی شکایت ہے۔

کیماڑی کا فش پوائنٹ معمول کے برعکس ویران نظر آرہا ہے

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ تاحال زہریلی گیس کی شناخت نہ ہوسکی ہے۔ مریضوں کے ٹیسٹ رپورٹس بھی تاحال سامنے نہیں آئیں جبکہ جاں بحق افراد کی پوسٹ مارٹم رپورٹس کا بھی تاحال انتظار ہے۔

متعدد مریضوں کو آج ڈاکٹروں نے تندرست قرار دے کر اسپتال سے گھر بھیج دیا ہے اور وہ معمول میں واپس آگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پراسرار زہریلی گیس، کسٹم ہاؤس میں 4 افراد کی حالت خراب

مسان کے رہائشی 25 سالہ عاطف علی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ سانس لینے میں تکلیف محسوس ہونے پر ضیاء الدین اسپتال پہنچ گیا تھا جہاں ڈاکٹرز نے کچھ دیر کیلئے نیبولائزر لگایا اور طبی امداد دینے کے بعد صبح گھر بھیج دیا۔ اب سانس لینے میں کسی قسم کی دشواری محسوس نہیں ہوتی۔

عاطف علی نے کہا کہ ضیاء الدین اسپتال نے کسی قسم کا ٹیسٹ نہیں کیا اور نہ ہی مجھے ٹیسٹ کرنے کا خیال آیا۔ اسپتال کی ایمرجنسی میں تعینات ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ متاثرہ افراد کو زندگی بچانے والی ادویات دے رہے ہیں۔

اسپتال کے باہر کنکریٹ کے بینچ پر بیٹھے 20 سالہ امجد نے بتایا کہ اس کی 17 سالہ بہن کو آج شام میں اسپتال داخل کیا گیا ہے۔ امجد کا گھر نیٹی جیٹی پل سے کیماڑی کی طرف اترتے ہی گھاس بندر میں واقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پراسرار گیس سے 6 افراد کی ہلاکت کے بعد متنازعہ بیانات

ضیاء الدین اسپتال کے عقب میں رہائش پذیر 35 سالہ رحمت خان نے بتایا کہ ان کو سانس لینے کے ساتھ آنکھ اور ناک میں سوزش کی تکلیف محسوس ہورہی تھی مگر اسپتال گئے بغیر تھوڑی دیر میں طبعیت بہتر ہوگئی۔

کیماڑی کے جیکسن بازار میں پیر کو معمول کی رونق نظر نہ آئی اور تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ بیشتر لوگ گھروں میں کھڑکیاں اور دروازے بند کرکے پنکھے چلا کر بیٹھے رہے۔

دوسری جانب پراسرار زہریلی گیس کے بارے میں مقامی افراد بھی مختلف آرا رکھتے ہیں مگر کسی کو بھی اپنے رائے پر پورا یقین نہیں ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ پورٹ سے زہریلی گیس لیک ہوگئی ہے مگر کراچی پورٹ ٹرسٹ کے حکام سمیت تمام متعلقہ ادارے اس کی تردید کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی پورٹ سے گیس کا اخراج نہیں ہوا، چیئرمین کے پی ٹی 

کیماڑی کے معروف مچھلی بازار میں بھی معمول کی طرح رونق دیکھنے میں نہیں آئی۔ شہریوں کیلئے رکھی گئیں کرسیاں 90 فیصد خالی جبکہ مچھلی فروش ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نظر آئے۔

راشد سی فوڈ کے مینیجر ارشاد خان اپنی کرسی پر بیٹھے قہوہ پی رہے تھے۔ سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج گاہگ نہیں ہیں۔ مارکیٹ میں کئی ہوٹل مالکان نے تاحال کڑاہی میں آگ بھی نہیں جلائی تھی۔ قریب واقع دکاندار نے بھی ارشاد خان کی بات دہرائی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube