ہوم   > صحت

راجن پور، 2012 سے پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا

4 weeks ago

بچوں کو قطرے پلانے کا عمل بھی جاری



راجن پور میں 2012 سے پولیو کا کوئی کیس سامنے نہيں آيا جبکہ 4 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا عمل بھی جاری ہے۔


پولیو کنٹرول روم انچارج ڈی ايچ او ڈاکٹر علی ہاشم کے مطابق ڈسٹرکٹ راجن پور میں 2012 کے بعد پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ اس حوالے سے ڈبلیو ایچ او 2015 سے ہر ماہ انوائرمینٹل سیمپل کر رہی ہے جو پچھلے ماہ تک منفی آیا ہے۔


پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پولیو ورکرز نے سکیورٹی خدشات کے باوجود اپنے فرائض ادا کيے۔


پولیو ورکر کا کہنا تھا کہ ہمارے سپروائزر اور افسران نے بہت ساتھ دیا۔ پہلے سیکیورٹی نہیں ہوتی تھی جس سے مشکلات کا سامنا تھا پھر بھی ہم نے اپنا کام جاری رکھا۔ اللہ کا شکر ہے اب ضلع میں کوئی پولیو کا کیس نہیں ہے۔


دوسری جانب موذی مرض کے شکار بچے تلخ یادوں کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔


پولیو کا شکار شاہینہ نامی خاتون کا کہنا تھا کہ سات سال کی عمر میں پولیو نے اٹیک کیا تھا جس سے نچلا دھڑ اور ٹانگیں کام کرنا چھوڑ گئی تھیں۔ جب تک والدین زندہ ہیں تو پال رہے ہیں اس کے بعد کس نے میرا خیال رکھنا ہے۔


محمد صدام نامی لڑکے کا کہنا تھا کہ بچپن میں پولیو کا شکار ہوا جس کی وجہ سے میری ایک ٹانگ نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ مزید تعلیم جاری رکھ کر ایم اے پاس کرکے ٹیچر بن کر بچوں کو آگاہی دینا چاہتا ہوں کہ معذوری کو کبھی مجبوری نہ سمجھیں۔


پولیو کا خطرہ دوبارہ پیدا نہ ہو اس کے لیے حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد جاری ہے۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں