ایچ آئی وی پر عالمی ماہرین کی رپورٹ میں محکمہ صحت سندھ کی کمزوریوں کی نشاندہی

June 8, 2019

رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی پر عالمی ماہرین کی جنیوا ہیڈ کوارٹرز کو بھیجی گئی ابتدائی رپورٹ وزیر صحت سندھ کے حوالے کر دی گئی۔ رپورٹ میں محکمہ صحت سندھ کی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ناکافی سہولیات، طبی تربیت کی کمی اور فنڈز کی عدم موجودگی، بلاول بھٹو زرداری کے حلقہ انتخاب رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی وجوہات بنیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) ماہرین نے ابتدائی رپورٹ محکمہ صحت سندھ کے حوالے کردی۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 57 فیصد متاثرین علاج کی سہولت سے محروم ہیں، وزیر صحت سندھ عذرا فضل پیچوہو نے بھی کمزوریوں کی نشاندہی کئے جانے کی تصدیق کردی۔

مزید جانیے : لاڑکانہ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 748 تک جاپہنچی

عالمی ماہرین نے ایچ آئی وی مریضوں کے علاج اور سہولیات کے علاوہ ڈبلیو ایچ او ریکمنڈڈ کٹس نہ ہونے کے باعث اسکریننگ پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا، تحقیقات اور متاثرین کے علاج کیلئے خطیر رقم کا بھی مطالبہ کردیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں صرف 240 متاثرہ بچوں کے علاج کیلئے ادویات موجود ہیں، 364 ایچ آئی وی متاثرہ بچے علاج کے منتظر ہیں، مرض پر کنٹرول کیلئے 15 لاکھ ڈالر کی ضرورت ہے، ڈبلیو ایچ او کے پاس 2 لاکھ ڈالرز موجود ہیں، 13 لاکھ ڈالر فراہم کئے جائیں، مینجمنٹ ٹیم کو 5 لاکھ اسکریننگ کٹس فراہم کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں : شکارپور میں شوہر نے ایچ آئی وی سے متاثرہ بیوی کو قتل کردیا

ڈپٹی کمشنر آفس لاڑکانہ میں منعقدہ اجلاس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کو ابتدائی رپورٹ پر بریفنگ دی گئی، جس میں ڈبلیو ایچ او ماہرین اور ایچ آئی وی ایڈز کنٹرول پروگرام کے افسران بھی موجود تھے۔

تفصیلات جانیں : لاڑکانہ ایچ آئی وی کیسز، 24 اتائی ڈاکٹروں کے خلاف مقدمات درج

واضح رہے کہ لاڑکانہ کے علاقے رتو ڈیرو میں چند ماہ کے دوران ایچ آئی سے متاثرہ افراد کی تعداد 750 تک پہنچ چکی ہے۔