ہوم   > Latest

ایچ آئی وی پر عالمی ماہرین کی رپورٹ میں محکمہ صحت سندھ کی کمزوریوں کی نشاندہی

3 months ago

رتو ڈیرو ميں ایچ آئی وی پر عالمی ماہرین کی جنیوا ہیڈ کوارٹرز کو بھیجی گئی ابتدائی رپورٹ وزیر صحت سندھ کے حوالے کر دی گئی۔ رپورٹ میں محکمہ صحت سندھ کی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ناکافی سہوليات، طبی تربيت کی کمی اور فنڈز کی عدم موجودگی، بلاول بھٹو زرداری کے حلقہ انتخاب رتو ڈيرو ميں ايچ آئی وی کے پھيلاؤ کی وجوہات بنيں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) ماہرین نے ابتدائی رپورٹ محکمہ صحت سندھ کے حوالے کردی۔

رپورٹ میں انکشاف کيا گيا ہے کہ 57 فیصد متاثرین علاج کی سہولت سے محروم ہیں، وزير صحت سندھ عذرا فضل پیچوہو نے بھی کمزوریوں کی نشاندہی کئے جانے کی تصديق کردی۔

مزید جانیے : لاڑکانہ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 748 تک جاپہنچی

عالمی ماہرین نے ایچ آئی وی مریضوں کے علاج اور سہولیات کے علاوہ ڈبليو ایچ او ریکمنڈڈ کٹس نہ ہونے کے باعث اسکریننگ پر بھی عدم اطمينان کا اظہار کیا، تحقیقات اور متاثرین کے علاج کيلئے خطیر رقم کا بھی مطالبہ کردیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ميں صرف 240 متاثرہ بچوں کے علاج کيلئے ادویات موجود ہیں، 364 ایچ آئی وی متاثرہ بچے علاج کے منتظر ہیں، مرض پر کنٹرول کيلئے 15 لاکھ ڈالر کی ضرورت ہے، ڈبلیو ایچ او کے پاس 2 لاکھ ڈالرز موجود ہیں، 13 لاکھ ڈالر فراہم کئے جائیں، مينجمنٹ ٹیم کو 5 لاکھ اسکریننگ کٹس فراہم کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں : شکارپور میں شوہر نے ایچ آئی وی سے متاثرہ بیوی کو قتل کردیا

ڈپٹی کمشنر آفس لاڑکانہ میں منعقدہ اجلاس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کو ابتدائی رپورٹ پر بریفنگ دی گئی، جس میں ڈبلیو ایچ او ماہرین اور ایچ آئی وی ایڈز کنٹرول پروگرام کے افسران بھی موجود تھے۔

تفصیلات جانیں : لاڑکانہ ایچ آئی وی کیسز، 24 اتائی ڈاکٹروں کے خلاف مقدمات درج

واضح رہے کہ لاڑکانہ کے علاقے رتو ڈیرو میں چند ماہ کے دوران ایچ آئی سے متاثرہ افراد کی تعداد 750 تک پہنچ چکی ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں