Saturday, August 8, 2020  | 17 Zilhaj, 1441
ہوم   > Latest

لاڑکانہ ایچ آئی وی کیسز، 24 اتائی ڈاکٹروں کے خلاف مقدمات درج

SAMAA | - Posted: May 29, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: May 29, 2019 | Last Updated: 1 year ago

پولیس نے لاڑکانہ میں ایچ آئی وی کیسز کی تحقیقات کیلئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر 24 اتائی ڈاکٹروں کے خلاف مقدمات درج کرلیے ہیں جن میں ڈاکٹر مظفر بھی شامل ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ اور ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ نے ایس ایس پی کامران نواز اور مسعود بنگش کے...

پولیس نے لاڑکانہ میں ایچ آئی وی کیسز کی تحقیقات کیلئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر 24 اتائی ڈاکٹروں کے خلاف مقدمات درج کرلیے ہیں جن میں ڈاکٹر مظفر بھی شامل ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ اور ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ نے ایس ایس پی کامران نواز اور مسعود بنگش کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہیلتھ کمیشن نے جب ڈاکٹر مظفر کی ٹیسٹ کی تو ایچ آئی وی پازیٹو نکلا۔ ہیلتھ کمیشن نے اس کے بعد یہ سمجھا کے ایچ آئی وی ڈاکٹر مظفر نے پھیلایا جس پر ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی۔

عرفان بلوچ نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ڈاکٹروں کے ہمراہ ڈاکٹر مظفر کے کلینک کا دورہ کیا اور متاثرہ افراد کے بیان لیے۔ تحقیقات میں کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوا کے ڈاکٹر مظفر نے ارادی طور پر ایچ آئی وی پھیلایا ہے مگر ڈاکٹر مظفر ایک سے زائد بار سرنچ استعمال کرنے کے باعث ایچ آئی وی پھیلانے کا ذریعہ ضرور بنے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایچ آئی وی کی تشخیص کے باوجود مریض علاج کرانے سے قاصر

انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی سے متاثر 145 افرد کے بیانات لیے جن میں سے 125 متاثرہ افراد ڈاکٹر مظفر کے مریض تھے۔ ڈاکٹر مظفر کو اس وقت تک پتا نہیں تھا کے انہیں خود ایچ آئی وی ہے جس وقت تک انتظامیہ نے ٹیسٹ نہیں کیا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ ڈاکٹر مظفر ذہنی طور پر مکمل طور پر صحت مند ہے۔ اس کے خلاف کیس دفعہ 324 کے درج کیا گیا تھا۔ اب تحقیقات کے بعد انہیں 322 میں چالان کیا جائے گا۔ متاثرہ بچوں کے ورثا پولیس سے رابطہ کریں تو ڈاکٹر مظفر کے خلاف مزید کیس داخل کیے جائیں گے۔ لاڑکانہ میں تاحال 24 اتائی ڈاکٹروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں ایچ آئی وے سے متاثرہ افراد کی تعداد 700 تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب عالمی اداروں کی ٹیمیں بھی لاڑکانہ پہنچ گئی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube