خاندان میں شادی ، خدشات اورحقائق

April 18, 2019

کزن میرج کے حوالے سے لاحق خدشات کے باجود جدید دور میں بھی بہت سے گھرانوں میں شادیاں خاندان میں ہی کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔اس کے باوجود یہ سوالات سب کے ذہن میں جنم لیتے ہیں کہ کیا کزن میرج کرنی چاہیے؟ کیا کزن میرج اولاد کے لیے خطرناک ہوتی ہے؟ ۔

کزن میرج سے بچوں میں پیدائشی نقص کا خطرہ بڑھنے کے سوال کا جواب اتنا آسان نہیں بلکہ اس کے لیے بنیادی جینیاتی اصولوں سے واقفیت ضروری ہے کیونکہ کزن میرج سے جینیاتی عوارض کا امکان بڑھتا ہے۔

تحقیقاتی اداروں کے مطابق جینیاتی اعتبار سے بات کی جائے تو کزن میرج سے ڈی این اے شیئر کرنے کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ اور جتنا زیادہ ایک دوسرے سے ڈی این اے شیئر کریں گے، اتنے ہی زیادہ جینیاتی امراض جیسے تھیلیسمیا اور دیگر اولاد میں سامنے آنے کا امکان بڑھے گا۔

بعض امراض مخصوص ڈی این اے کے ذریعے والدین سے بچوں میں منتقل ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں ذہنی معذوری یا سیکھنے کے عمل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ڈپریشن کے حوالے سے بھی کزن میرج کا اہم کردارہے کیونکہ عام طور پر ڈپریشن کا خطرہ 10 فیصد تک ہوتا ہے لیکن کزن میرج سے یہ امکان 30 گنا تک بڑھ جاتا ہے۔

آئرلینڈ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق کزن میرج ہونے والی اولاد میں ڈپریشن سمیت مختلف ذہنی امراض کا خطرہ 3 گنا بڑھا دیتی ہے جبکہ کوئنزیونیورسٹی کی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کزن میرج سے بچوں میں شیزوفرینیا جیسے مرض کا امکان دوگنا ہو جاتا ہے۔