ہوم   > Latest

مردان کے 60 سے زائد تعلیمی اداروں میں مضر صحت پانی کی تصدیق

9 months ago

خيبرپختونخوا حکومت کے بہترين صحت کے دعوؤں کي قلعي کھل گئي۔ مردان ميں طلبہ کو پينے کا صاف پاني بھي فراہم نہ کيا جاسکا۔ سپريم کورٹ کے حکم پر 300 سے زائد تعليمي اداروں ميں پاني کے نمونے چيک کيے گئے جن ميں سے 60 سے زائد ميں موذی امراض والے جراثیم کی تصدیق ہوئي...

خيبرپختونخوا حکومت کے بہترين صحت کے دعوؤں کي قلعي کھل گئي۔ مردان ميں طلبہ کو پينے کا صاف پاني بھي فراہم نہ کيا جاسکا۔ سپريم کورٹ کے حکم پر 300 سے زائد تعليمي اداروں ميں پاني کے نمونے چيک کيے گئے جن ميں سے 60 سے زائد ميں موذی امراض والے جراثیم کی تصدیق ہوئي ہے۔

مردان کے طلبہ کي صحت کو خطرات لاحق ہیں۔ سپريم کورٹ کي ہدايت پرضلع بھر کے 300 سے زائد تعليمي اداروں میں پانی کی کوالٹی کی چیکنگ کا آغاز کيا گيا جن ميں 60 سے زائد نمونوں ميں موذی امراض والے جراثیم کی تصدیق ہوئي ہے ۔

ادھر صورتحال پر محکمہ تعليم کے بے حس افسران نے انوکھا جواز پيش کرديا ۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر ذوالفقارالملک نے کہا کہ ہمارا کام تعليم دينا ہے اور وہ ہم کررہے ہيں، باقي کام ديگر اداروں کا ہے، ہمارے پاس بچے صرف پانچ گھنٹے کے لیے ہوتے ہيں۔

شہريوں کا کہنا ہے کہ اعليٰ حکام صاف پاني کي فراہمي کو ممکن بنائيں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں