ہوم   > Latest

کراچی میں رواں سال کا پہلا کانگو وائرس کیس سامنے آگیا

6 months ago

کراچي میں رواں سال کانگو وائرس کا پہلا کيس سامنے آیا ہے، اسپتال انتظامیہ کے مطابق اورنگي ٹاون کي 35 سالہ خاتون ميں وائرس کي تصديق ليبارٹري ٹيسٹ سے ہوئي ہے۔

ترجمان جناح اسپتال ڈاکٹرسیمی جمالی کے مطابق لیبارٹری ٹیسٹ سے خاتون میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی، خاتون کو تشویشناک حالت میں جناح اسپتال لایا گیا تھا۔

گزشتہ سال 41 مریضوں میں کانگو وائرس کی تصدیق کی گئی تھی۔ 2018 میں کانگو وائرس سے کراچی میں 16 اموات ہوئیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح اسپتال کے مطابق متاثرہ زیادہ تر مریضوں کا تعلق کوئٹہ سے تھا۔

کانگو وائرس ہے کیا؟

جان لیوا وائرس کانگو کا سائنسی نام کریمین ہیمریجک کانگو فیور ہے، جو تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے۔ کانگو وائرس کے مریض میں انفیکشن کے بعد جسم سے خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے، خون بہنے کے باعث مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

افریقی بیماری کے نام سے بھی مشہور اس مرض کا وائرس زیادہ تر افریقی ممالک، جنوبی امریکا، مشرقی یورپ، ایشیاء اور مشرق وسطیٰ میں پایا جاتا ہے، یہ بیماری 1944ء میں سب سے پہلے کریمیا میں سامنے آئی جس کی وجہ سے اس کا نام کریمین ہیمرج رکھا گیا۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مختلف مویشیوں بھیڑ، بکریوں، بکرے، گائے، بھینسوں اور اونٹ کی جلد پر پائے جانے والے کیڑے چیچڑی اس مرض کے پھیلاؤ کا سبب ہے۔ چیچڑی کسی بھی جانور کی کھال سے چپک کر اس کا خون چوستی رہتی ہے اور اس بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کانگو وائرس سے متاثرہ جانور کا خون پینے کے بعد یہ چیچڑی اگر انسان کو کاٹ لے یا متاثرہ جانور ذبح کرنے کے دوران بے احتیاطی کی وجہ سے قصائی کے ہاتھ پر کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے،یوں یہ مرض جانور سے جانور، جانور سے انسان اور ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتا ہے۔ کانگو وائس میں مبتلا ہونے والے مریض کے ہفتہ بھر میں موت کے منہ میں چلے جانے کے واقعات عام ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
سیالکوٹ: اسکول کی خستہ عمارت، طلبہ کی زندگیاں خطرے میں