Thursday, October 29, 2020  | 11 Rabiulawal, 1442
ہوم   > صحت

پنجاب میں انیستھیزیا ڈاکٹرز کی شدید قلت، سیکڑوں آپریشن ملتوی

SAMAA | - Posted: Nov 24, 2018 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Nov 24, 2018 | Last Updated: 2 years ago

آپريشن کیلئے مريض کو بے ہوش کرنا ضروری ہوتا ہے ليکن پنجاب ميں بے ہوش کرنیوالے ڈاکٹر ہی کم ہوتے جارہے ہيں، صوبے ميں انیستھيزيا اسپيشلسٹ کی 408 اسامیاں میں سے 305 خالی پڑی ہيں۔ سرکاری اسپتالوں ميں مريضوں کیلئے نئی مصيبت کھڑی ہوگئی، بے ہوش کرنے والے ڈاکٹروں کی قلت کے باعث روازنہ سينکڑوں...

آپريشن کیلئے مريض کو بے ہوش کرنا ضروری ہوتا ہے ليکن پنجاب ميں بے ہوش کرنیوالے ڈاکٹر ہی کم ہوتے جارہے ہيں، صوبے ميں انیستھيزيا اسپيشلسٹ کی 408 اسامیاں میں سے 305 خالی پڑی ہيں۔

سرکاری اسپتالوں ميں مريضوں کیلئے نئی مصيبت کھڑی ہوگئی، بے ہوش کرنے والے ڈاکٹروں کی قلت کے باعث روازنہ سينکڑوں آپريشن ملتوی ہونے لگے۔

ننکانہ صاحب، چنيوٹ، بہاولنگر سميت 5 اضلاع ميں ايک بھی انیستھيزيا کا ڈاکٹر موجود نہيں، آپريشن کیلئے مريضوں کو مجبوراً بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں آپريشن کیلئے پہلے ہی لمبی لائنيں لگی ہيں۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ سرجن تو آپريشن کرنے کیلئے تيار ہوتے ہيں ليکن بے ہوشی کا ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے آپريشن التواء کا شکار ہوجاتے ہيں، کئی آپريشن تھيٹر بند پڑے ہيں۔

ڈاکٹرز کہتے ہيں مريض کو بے ہوش کرنا ايک مشکل کام ہے، ڈاکٹر کو بہت محتاط رہنا پڑتا ہے مگر تنخواہ کے نام پر صرف چند ہزار ملتے ہيں، پنجاب حکومت تنخواہيں بڑھانے پر سنجيدگی سے غور کرے۔

مشکلات بڑھتی ديکھ کر محکمہ صحت پنجاب نے انیستھيزيا اسپيشلسٹ کی تنخواہ 2 لاکھ سے ليکر پانچ لاکھ روپے تک مقرر کرنے پر غور شروع کرديا ہے، بے ہوش کرنیوالے اسپيشلسٹ ڈاکٹروں کو فی آپريشن 5 ہزار روپے اور ديگر الاؤنس بھی دينے کی تجويز ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube