ٹھٹھہ:کینسر کے مریضوں میں تشویشناک حد تک اضافہ

November 20, 2018

ٹھٹھہ اور سجاول میں نوے فیصد آبادی پان گٹکا اور چھالیہ کھاتی ہے۔ صرف ٹھٹہ میں دو ماہ میں منہ کے کینسر کے 70 سے زائد کیس رپورٹ ہوئے لیکن لوگ زہر چھوڑنے کو تیارنہیں ۔

پان اور گٹگے جیسے زہرقاتل نے ٹھٹھہ میں کینسر کے مریضوں میں تشویشناک حد تک اضافہ کردیا لیکن اس کی روک تھام کے اقدامات کیں نظر نہیں آتے۔

ڈینٹل سرجن سول اسپتال ڈاکٹر شام لال نے بتایا کہ ٹھٹھہ اور سجاول اضلاع کی 90 فیصد آبادی پان گٹکا اور مین پوری کھاتی ہے۔ دو ماہ کے دوران 70 سے زائد افراد کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئے جن میں سے 20 افراد کو میجرکینسر ہونے کے باعث کراچی ریفر کردیا گیا ہے۔

یہاں کے لوگ اس بات سے آگاہ ہیں ایسی چیزیں کھانا کس قدر نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے لیکن اس کے باوجود صورتحال یہ ہے کہ لوگ مین پوری اور گٹکا چھوڑنے کےلیے تیار نہیں۔

نمائندہ سما نے پان کھانے کے عادی سلیم ملاح نامی شخص سے بات کی تو اس نے کہا کمال لاپروائی سے کہا کہ کھانے والے کو ہی پتہ ہوتا ہے کہ پان کیا چیز ہے۔ میں اگر پان نہ کھاؤں تو سر میں درد ہوجاتا ہے۔ 5 روپے والا پان 15 کا ہوگیا ہے، میں مزدور پیشہ ہوں لیکن پھر بھی کھاتا ہوں۔

کھلے عام فروخت ہونے والے اس زہر کی فروخت روکنا انتظامیہ کا کام ہے ۔

ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ نے اس تشویشناک صورتحال پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے بڑے اسپتالوں میں 60 فیصد کینسر کے مریض ٹھٹھہ اور سجاول کے ہوتے ہیں۔اس زہر قاتل کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے قانون سازی کرنی ہو گی۔