دنیا بھرمیں سالانہ70 لاکھ افراد فضائی آلودگی کے باعث موت کےمنہ میں جارہےہیں

November 7, 2018

فضائی آلودگی خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ دنیا بھر میں سالانہ 70 لاکھ افراد زندگی کی بازی ہار رہےہیں۔ فضائی آلودگی سے مرنے والوں میں 6 لاکھ بچے ہیں۔ متاثرہ بچوں کا تعلق ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا سے ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے خوفناک انکشافات سامنے آگئے۔فضائی آلودگی کے سبب دنیا بھر میں سالانہ 6 لاکھ  بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ہر دس میں ایک بچہ پانچ سال سے کم عمر کا ہوتا ہے ۔ڈبلیو ایچ او کی ایئرپولوشن اینڈ چائلڈ ہیلتھ رپورٹ کے مطابقفضا میں شامل سلفیٹ  اور بلیک کاربن پھیپھڑے اور دل کے امراض کا سبب ہیں ۔ ہر روز15 سال سے کم عمر کے 93 فیصد بچے زہریلی ہوا میںسانس لیتے ہیں ۔ بیشتر بچے سینے کے انفیکشن کے باعث موت کے منہ میں جاتے ہیں ۔

مُردہ بچوں کی پیدائش، قبل ازوقت ولادت ،نومولود میں دمہ کی شکایات  اور بچوں میں  ذہنی صلاحیت میں کمی کی وجہ بھی فضائی آلودگی ہے ۔اس کے علاوہ فضائی آلودگی کے سبب ایئرانفکیشن اوربچوں میں موٹاپے میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے ۔الزائمر اور دوسری طرح کے ڈیمینیشیا کے امراض بڑھ گئے ہیں ۔

فضائی آلودگی سے متاثرہ بچوں کا تعلق ایشیا، افریقا اورلاطینی امریکا سے ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر کے مطابق فضائی آلودگی سے کروڑوں بچوں کی زندگی داؤ پر لگی ہے۔دنیا کی 91 فیصد آبادی ایسے مقامات پر رہتی ہے جہاں کا فضائی معیار انتہائی خراب ہے۔ ہردس میں نو افراد آلودہ فضا میں سانس لیتے ہیں ۔