کینسر اس سال ایک کروڑ جانیں نگل لے گا، رپورٹ

Samaa Web Desk
September 12, 2018

    طبی محققین کہتے ہیں کہ کینسر اس سال ایک کروڑ لوگوں کو ہلاک کردے گا۔ ایک اندازے کے مطابق رواں سال دنیا بھر میں ایک کروڑ اکیاسی لاکھ لوگوں میں اس مرض کی تشخیص ہوچکی ہے، جن میں سے چھیانوے لاکھ موت کا شکار ہوچکے ہیں۔

کینسر کی تحقیق کے عالمی ادارے کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں سال کینسر سے ایک کروڑ افراد لقمہ اجل بن جائیں گے۔

آبادی میں اضافے کے ساتھ کینسر کے شکار مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے، اس کی ایک وجہ ترقی پذیر اقوام میں غیرصحتمندانہ طرز زندگی کو اپنانا ہے جو روایتی طور پر امیر اقوام سے منسوب ہے۔

ادارے کا کہنا ہے احتیاطی تدابیر سے بہتر واقفیت کی بنا پر لوگ ورزش کرتے ہیں، سگریٹ نوشی چھوڑ دیتے ہیں اور صحتمند غذا استعمال کرتے ہیں، اس وجہ سے کینسر کی کچھ اقسام میں یقیناً کمی آئی ہے، لیکن پھر بھی رپورٹ ہونے والے نئے کیسز میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر کرسٹوفر وائلڈ کہتے ہیں کہ اس بیماری کے دنیا بھر میں خوفناک اضافے کو روکنے کے لیے بہت کچھ کیا جانا چاہیے۔

تحقیق بتاتی ہے کہ ہر پانچ مَردوں میں سے ایک اور ہر چھ عورتوں میں سے ایک اس موذی مرض میں مبتلا ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ بیماری اکیسویں صدی میں اموات کا ایک بڑا سبب ہے۔

سرطان کے نئے رپورٹ ہونے والے کیسز میں تقریباً آدھی تعداد ایشیا میں موجود ہے اور اس بیماری سے مرنے والوں کی آدھی سے زیادہ تعداد بھی ایشیا ہی سے تعلق رکھتی ہے۔

سرطان کی تمام اقسام میں پھیپھڑوں کا کینسر زیادہ مہلک ہے جس نے دنیا بھر میں 18 کروڑ لوگوں کی جانیں لی ہیں، یعنی دنیا بھر میں کینسر سے مرنے والوں کی تعداد کا ایک چوتھائی اس مرض کا شکار تھا، خواتین میں چھاتی کا سرطان مجموعی اموات کا 15 فیصد ہے اور پھر آنتوں کا سرطان جو 9.5 فیصد خواتین کی جان لے چکا ہے۔

اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ خواتین میں پھیپھڑوں کے سرطان میں پریشان کن اضافہ ہورہا ہے، نیوزی لینڈ، چین اور ہالینڈ سمیت 28 ممالک میں خواتین کی اموات کا ایک بڑا سبب پھیپھڑوں کا کینسر ہے، خواتین میں اس مرض سے اموات کا تناسب 13 فیصد سے زائد ہے۔

سرطان کی کچھ اقسام جو روایتی طور پر امیر ممالک میں رائج طرز زندگی سے پیدا شدہ سمجھی جاتی ہیں، ان کا پھیلاؤ ترقی پذیر اقوام میں نہایت زیادہ ہے، مثال کے طور پر فربہ جسم کے مالک لوگ ورزش کرنے پر رضامند نظر نہیں آتے۔

تحقیقاتی ادارے کے شعبہ کینسر سرویلنس کے سربراہ فریڈی برے کہتے ہیں کہ لوگ ورزش کی عادت چھوڑتے جارہے ہیں اور اس وجہ سے وہ آنتوں کے سرطان کا نشانہ بن رہے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ انسانیت کے اس سب سے بڑے قاتل کو قابو میں لانے کی عالمی کوششوں میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔

فریڈی برے کہتے ہیں یہ مرض دنیا بھر میں پھیلتا جارہا ہے لہٰذا اس کے تدارک کیلئے احتیاطی تدابیر اور عوامی صحت پروگرامز میں انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے، خصوصاً کم آمدنی والے ممالک میں صحت کے شعبے کو نشو و نما کی زیادہ ضرورت ہے۔