پختونخوا: مضر صحت خوراک اور پانی سے یرقان کے مریضوں میں اضافہ

September 10, 2018

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں غیرمعیاری اورمضرصحت خوراک اور آلودہ پانی کی وجہ سے کالے اور پیلے یرقان کی بیماری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق صوبے میں کالے یرقان کے موذی مرض میں مبتلا افراد کی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جن میں سے صرف 12 ہزار افراد کو سرکاری سطح پر مفت علاج کی سہولت مل رہی ہے جبکہ باقی افراد کو تاحال رجسٹرڈ نہیں کیا گیا۔

ماہرین صحت کے مطابق مضرصحت اورناقص اشیاء کے استعمال سے صوبے میں ہر آٹھویں فرد کو کالے اور پیلے یرقان کی بیماری ہے جس میں محکمہ صحت کے اعداد وشمار کے مطابق سال رواں کے دوران دو ہزار سے زائد افراد میں ہپاٹائٹس بی جبکہ 23 سو نئے مریض ہپا ٹا ئٹس سی کیلئے تشخیص ہوئی ہیں۔

اس سلسلے میں نیشنل ہپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے صوبائی سربراہ کے مطابق حکومت نے نئے طریقہ علاج پر عمل درآمد شروع کردیا ہے جبکہ مفت علاج اور تشخیص کیلئے مریضوں کی تعداد بھی 12 ہزار سے 20 ہزار کردی ہے۔

 ان کے مطابق حکومت کی جانب سے ڈیمانڈ کے مطابق ادویہ خریدی جاتی ہیں۔ جتنے زیادہ مریض رجسٹرڈ ہوں گے فنڈز میں اسی تناسب سے اضافہ کیا جائے گا۔ سرکاری اسپتالوں میں لوگ کم آتے ہیں اور بیماریوں کی تشخیص تو بالکل نہیں کی جاتی۔ اس لئے دوسرے مسائل کے حوالے سے اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو کالے یا پیلے یرقان کی بیماری تشخیص ہونے کے بعد انہیں رجسٹرڈ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا صوبے میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں جو اپنے وسائل سے علاج کررہے ہیں۔