کراچی، ایک ہفتے میں پانچ افراد کانگو وائرس میں مبتلا ہوگئے

Shafqat Aziz
September 8, 2018

کراچی کے ایک اور شخص میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوگئی جس کے بعد ایک ہفتے کے دوران کانگو وائرس میں مبتلا مریضوں کی تعداد پانچ ہوگئی۔


محمودآباد کے رہائشی 25 سالہ حیدر علی میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی جس پر مریض کو جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ایک ہفتے کے دوران کراچی میں مزید پانچ افراد میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں سے تین افراد جناح اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

رواں سال کراچی میں نو افراد کانگو وائرس کا شکار ہوکر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

کانگو وائرس سے متاثرہ انسان کے پھیپھڑے، جگر اور گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

کیا کراچی میں کانگو وائرس پھر سر اٹھانے لگا ؟

ماہرین کے مطابق ہڈیوں اور پیٹ میں درد، تیز بخار اور جسم کے کسی بھی حصے سے خون آنا کانگو کی علامات ہیں اور یہ مرض ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کانگو بخار خطرناک نیرو نامی وائرس سے پھیلتا ہے۔ کانگو مویشی کی کھال سے چپکے کیڑوں میں پایا جاتا ہے، کیڑے کے کاٹنے سے وائرس انسان کو منتقل ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ قومی ادارہ صحت کے مطابق نیرو وائرس صرف انسانوں میں کانگو بخار پھیلاتا ہے۔ نیرو وائرس انسانی خون، تھوک اور فضلات میں پایا جاتا ہے۔