دو روزہ نیشنل سائنٹفک ایس او جی پی کانفرنس ختم ہو گئی

August 8, 2018

گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہا کہ کہا کہ ہماری کل آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے اس لئے ان کے تمام حقوق و اختیارات کی پاسداری کو یقینی بنانے کیلئے بھر پور اقدامات کی اشد ضرورت ہے ۔

کانفرنس کے مہمان خصوصی گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی تھے۔ کوئٹہ میں دو روزہ نیشنل سائنٹفک ایس او جی پی کانفرنس ختم ہو گئی۔

صوبائی نگران وزیر صحت فیض کاکڑ، سیکریٹری صحت صالح محمد ناصر کے علاوہ ملک بھر سے سینئر ڈاکٹر اور ماہرین نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ صوبے میں ماں اور نو زائیدہ بچوں کی شرح اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ ضروری ہے کہ عورت کو خود مختار بنانے اور خاندانی منصوبہ بندی کیلئے لائحہ عمل تر تیب دیا جائے ۔

صوبے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ صوبے کے دور افتادہ علاقوں کی خواتین اس ترقی یافتہ اور تیز رفتار دور میں بھی صحت اور علاج و معالجے کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ۔ گورنر نے ماہرین و محققین کی توجہ اعداد و شمار کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شعبے کے اہداف کا تعین کرتے ہوئے اعداد شمار کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنا اشد ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی ضروریات اور معروضی سوالات کے مطابق تازہ اعداد و شمار تیار کرنے سے معاشرے کے صحیح خدو خال واضح ہوجائیں گے اور جامع پالیسی تیار کرنے میں بھی آسانی ہوگی ۔

حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں کی عوام دوست کا وشوں کے نتیجے میں بڑی حد تک بہتری آئی ہے ۔ گورنر بلوچستان نے اس بات پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کی تین یونیورسٹیوں میں کل طلباء کی تعداد پینتیس ہزار ہے جن میں سے نصف تعداد لڑکیوں پر مشتمل ہے لڑکیوں کی اتنی بڑی تعداد کو علم و شعور سے روشناس کرانے کے یقیناً مستقبل قریب میں مثبت و تعمیری اثرات مرتب ہوں گے۔

آخر میں گورنر بلوچستان نے دو روزہ قومی کانفرنس میں شریک سینئر ڈاکٹرز او ر منتظمین میں اسناد بھی تقسیم کیں۔