قربانی کےجانورکی خریداری ضروری،مگرکانگو وائرس کوکیسےروکیں؟

Samaa Web Desk
August 6, 2018

محکمہ صحت کی جانب سے مویشی منڈیوں کے لگتے ہی کانگو وائرس کی روک تھام کے لیے مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔

عید الاضحی کے قریب آتے ہی ملک بھر میں مویشی منڈیاں بھی قائم ہونے لگی ہیں، جس کے پیش نظر محکمہ لائیو اسٹاک نے مویشی منڈیوں میں ممکنہ کانگو وائرس کی روک تھام کے لیے اسپرے مہم شروع کردی ہے۔

 مویشی منڈی جاتے ہوئے احتیاط :

مویشی منڈی میں اور گھروں میں جراثیم کش اسپرے کرایا جائے، مویشیوں کے فضلے اور بیمار جانوروں کو فوری طور پر الگ کیا جائے۔

کانگو وائرس چیچڑ نامی کیڑے سے پھیلتاہے، یہ کیڑا مویشی کے جسم پر موجود ہوتا ہے، جو انسان کے خون میں شامل ہوکر جسم میں درد،بخار،متلی اور خون کے بہنے کا سبب بنتا ہے ۔

 

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ عوام جانوروں کو ہاتھ لگاتے وقت دستانے ،ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں، جسم کومکمل طور پر ڈھانپ کر رکھیں اور خاص طور پر اسپتالوں میں کانگو مرض کا عملہ بھی خاص احتیاط کرے۔

 

ایسی جگہوں پر پانی پینے میں احتیاط کریں اور اپنا پانی ساتھ لے کر جائیں۔

 

کانگو وائرس کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لئے محکمہ لائیو اسٹاک نے مویشی منڈیوں میں بینرز بھی آویزاں کر دیئے ہیں، جب کہ آگاہی کے لئے پمفلٹس بھی تقسیم کیے جار ہے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ سال کانگو وائرس کے 4 کیسز سامنے آئے تھے، جس سے ایک فرد جاں بحق ہوگیا تھا جس کے پیش نظر محکمہ لائیو اسٹاک رواں سال ممکنہ کانگو وائرس سے بچنے کے لئے مو یشی منڈیوں میں جانوروں پر اسپرے کر رہی ہے۔ کراچی میں رواں سال کانگو وائرس کا ایک کیس منظر عام پر آیا۔