ایبٹ آباد میں گیسٹروکی وباپھوٹ پڑی، 3ہزار مریض اسپتال داخل

Atif Qayum and Noor Ul Huda Shaheen
August 3, 2018

 

ایبٹ آباد میں گیسٹرو کی وباء پھیلنے کے باعث 4 روز میں 3 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

ایبٹ آباد سے سما ٹی وی کے نمائندہ عاطف قیوم کے مطابق گندے پانی اورصفائی کے ناقص انتظامات کے باعث ایبٹ آباد میں گیسٹروکی وباء پھوٹ پڑی ہے جس کے باعث 4 دن میں 3 ہزار افراد کو ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹراسپتال لایاگیا ہے جہاں گیسٹرو کا شکار افراد کے لیے دو وارڈز قائم کر دیے گئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شاہ فیصل خانزادہ کا کہنا ہے کہ گیسٹرو کی وباء سے تین ہزار افراد متا ثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگائے ہیں اور متاثرین کو ادویات اور علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال کے علاوہ دیگراسپتالوں میں بھی روزانہ دو سوسے زائدمریض داخل ہورہے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

شہریوں کا شکوہ ہے کہ آلوہ پانی پینے کی وجہ سے بیمار ہو رہے ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں۔  صاف پانی فراہم نہیں کیا جارہا ہے۔

ڈاکٹروں نے عوام کو مشورہ دیا ہے گیسٹرو سے بچاو کے لیے لوگ حفظان صحت کے اصول اپنائیں۔

واضح رہے کہ گیسٹرو عام طور پر گرمیوں میں پھیل جاتی ہے اور یہ جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔

گیسٹرو کی علامات میں شدید قے آنا، اسہال، پیٹ درد اور بخار شامل ہیں، ایسی صورتحال سے درپیش افراد کو فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال لے جانا چاہیئے کیونکہ جسم میں پانی کی کمی موت کا سبب بن سکتی ہے۔

گیسٹرو مرض کے اسباب میں پینے کے لیے صاف پانی کی کمی ہے۔ اکثر شہری علاقوں میں سیوریج لائنز خراب ہو جانے کی وجہ سے آلودہ پانی صاف پانی میں شامل ہو جاتا ہے جس وجہ سے گیسٹرو، پیٹ اور گلے کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

گیسٹرو سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ پانی ابال کر استعل کیا جائے، کھانے پینے کی اشیاء کو ڈھانپ کر رکھا جائے، باسی کھانا نہ کھایا جائے اور جب کھانا پکایا جائے تو وہ کچا نہ ہو، گلے سڑے پھل استعل نہ کیے جائیں، سادہ اور متوازن غذا استعل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔