کینسر کے علاج کیلئے پاکستانی سائنسدان کی بڑی کامیابی

July 9, 2018

کراچی کے پسماندہ علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والے ایوارڈ یافتہ پاکستانی سائنسدان محمد وقاص عثمان ہنگورو نے کینسر کے علاج سے متعلق بڑی کامیابی حاصل کرلی۔ وقاص عثمان کے دریافت کردہ ’’کینسرکلرمکینزم‘‘ کی بدولت اب اس موذی مرض کی بہت سی اقسام میں خون کے سرخ خلیات کے ذریعے رسولیوں تک دوا پہنچائی جا سکے گی۔

پی ایچ ڈی اسکالرمحمد وقاص عثمان بین القوامی ماہرین کے ساتھ مل کرایکسٹرا سیلولرویسیکلزیا ای ویز (بین الخلیاتی اجسام ) کی صلاحیت سامنےلائے جس کے ذریعے کینسرکے خلیات تک دوا پہنچائی جا سکتی ہے کیونکہ ای ویزانسانی جسم میں خلیات کے مابین رابطے کا کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ اس سے قبل کسی نے بھی خون کے سرخ خلیات کو کینسرکےعلاج سے متعلق پیشرفت میں استعمال نہیں کیا۔سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالے کے مطابق کئی خلیوں کے ای وی کو اس مقصد کیلئے استعمال کیا گیا لیکن وقاص اور ٹیم نے ریڈ بلڈ سیلز (خون کے سرخ ذرات) سے متعلق ای ویز کو استعمال کیا۔

رپورٹ کے مطابق سرخ خلیات میں ڈی این اے نہیں ہوتا اور وہ زیادہ موثرکام کرتے ہیں۔ ان میں دوا کے مالیکیولز شامل کر کے تجربہ کیا گیا اوراہم پیشرفت سامنے آئی۔ نوجوان سائنسدان کے مطابق فی الحال بلڈ کینسر اور بریسٹ کینسر سے متعلق تجربہ کیا گیا جسے مزید تحقیق کے بعد دوسری اقسام کے کینسر پر بھی آزمایا جائے گا۔

لیاری جیسے پسماندہ علاقے سے نکل کرہانگ کانگ کی سٹی یونیورسٹی میں بایو میڈیکل سائنسز کے شعبے کے تحت یہ ریسرچ کرنے والا یہ باصلاحیت سائنسدان چین کی ڈالیان میڈیکل یونیورسٹی میں بایو میڈیکل میں ایم ایس سی کے دوران کینسر اسٹیم سیل پر بھی تحقیق کرچکا ہے۔ وقاص عثمان سال 2016 میں سٹی یونیورسٹی آف ہانگ کانگ میں ڈاکٹریٹ کی اسکالرشپ بھی حاصل کرچکے ہیں۔