ڈپریشن کےعلاج کا نیا طریقہ علاج؟

Samaa Web Desk
June 9, 2018

بہت سے لوگوں کو اس قدر شدید ڈپریشن کا سامنا ہوتا ہے جس میں ادویات اور تھراپی بھی کار آمد ثابت نہیں ہوتیں، یہ وہ قسم ہے جسے ڈاکٹرز علاج میں مزاحم ڈپریشن ’’ٹریٹمنٹ ریزسٹنٹ ڈپریشن‘‘ کہتے ہیں۔

سائنسدان اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے راہیں تلاش کرنے میں مصروف ہیں، اس حوالے سے نئے طریقہ علاقج ڈیپ برین اسٹیمولیشن سرجری نے نئی امیدیں پیدا کی ہیں۔

طبی ویب سائٹ نیچر ڈاٹ کام پر 4 جون کو جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ  ٹیکساس یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے علاج میں مزاحم ڈپریشن ’’ٹریٹمنٹ ریزسٹنٹ ڈپریشن‘‘ کے شکار 5 مریضوں کی برین اسٹیمولیشن سرجری کی جس کے نتائج انتہائی حوصلہ افزاء رہے۔

رپورٹ کے مطابق نئے طریقہ علاج سے 12 ہفتوں کے دوران مریضوں کے ڈپریشن میں 70 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔

ڈیپ برین اسٹیمولیشن میں دماغ کے مخصوص حصوں سے دھاتی راڈز (الیکٹراڈز) منسلک کی جاتی ہیں جس میں کھال کے اندر گردن تک لگی طویل تاروں کے ذریعے سینے میں نصف پیس میکر طرز کی بیٹری (اسٹیمولیٹر) سے توانائی فراہم کی جاتی ہے۔

یہ اسٹیمولیٹشن دماغ کے حصوں کیلئے کام کرتا ہے، جسے میڈیل فوربرین بنڈل کہا جاتا ہے، جو فائبر کا مجموعہ ہوتا ہے، جس کے ذریعے ڈوپامائن جاری یا منتقل کیا جاتا ہے۔

یہ مادہ دماغ کے افعال کو بہتر بنانے اور خوشی کے مراکز کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، ڈوپامائن حرکات اور جذباتی ردعمل کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے، یہ نا صرف دماغ کے افعال کو دیکھتا ہے بلکہ انہیں آگے بڑھانے میں بھی مدد دیتا ہے۔