ہارٹ اٹیک موٹاپے سے نہیں ہوتا

Samaa Web Desk
May 16, 2018

ناروے کے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہارٹ اٹیک موٹاپے سے نہیں جسمانی طور پر غیر متحرک ہونے سے ہوتا ہے۔

ناروے کے ماہرین صحت نے کہا ہے کہ انسان کے لئے موٹاپے سے کہیں زیادہ خطرانک بات غیر متحرک ہونا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک سمیت کئی بیماریاں لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

نارویجن یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وزن کم کرنے کے بجائے جسمانی طور پر متحرک رہنا کورونری ہارٹ ڈیزیز کے علاج میں زیادہ معاون ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق کار ٹرائن موہولڈتھ اور ان کے ساتھیوں نے 3307 مریضوں پر موٹاپے میں اضافے یا کمی اور جسمانی طور پر متحرک رہنے کے حوالے سے جسم پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ کیا جس سے پتا چلا کہ 3307 مریضوں میں سے جن مریضوں کے وزن میں اضافہ ہوا ان میں کورونری ہارٹ ڈیزیز سے موت کی شرح نہ ہونے کے برابر رہی تاہم وہ افراد نے جنہوں نے وزن تو کم کرلیا لیکن جسمانی طور پر متحرک نہیں تھے ان میں موت کے خطرات کی شرح 1.3 فیصد تھی۔

اسی طرح جن مریضوں نے وزن کو نارمل رکھا لیکن جسمانی طور پر متحرک رہے ایسے افراد کی موت کی شرح صفر اعشاریہ 64 رہی جوکہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس طرح اگر روز مرہ کے کاموں کی انجام دہی میں جسمانی سرگرمی کی جائے تو دل کی شریانوں کے مرض میں افاقہ ہوتا ہے اور مریض تندرست بھی رہتا ہے۔