پوسٹ مارٹم : کراچی میں ہیٹ ویو کا خدشہ، کیاانتظامیہ تیار ہے؟

April 16, 2018

کراچی : سخت گرمی میں لوڈشیڈنگ کاعذاب دوہزار پندرہ کی یادیں تازہ کررہا ہے اورعوام فکرمند ہے کہ ہربار خود کو دہرانے والی تاریخ کہیں پھر کوئی انسانی المیہ رقم نہ کردے۔

کراچی والے ہوجائیں ہوشیار انتظامیہ خبردار حکمرانوں کی بے حسی کہیں یا غفلت سال2015 سب کو یاد ہوگا، ماہ جون میں قیامت صغریٰ کے مناظردیکھے گئے، سورج نے ایسا قہر برسایا تھا کہ 12 روز میں تقریبا 1200سے زائد افراد موت کی وادی میں چلے گئے۔

سب سے زیادہ ہلاکتیں جناح اسپتال میں ہوئیں جہاں 350 افراد دم توڑ گئے تھے جبکہ عباسی شہید اور کے ایم سی اسپتالوں میں تعداد 215 سے زائد رہی۔

سول اسپتال میں 130 سے زائد افراد دنیا سے رخصت ہوئے، لیاقت نیشنل میں 73،آغا خان اسپتال میں 31افراد نے دم توڑا، ضیا الدین میں 61،انڈس اسپتال میں 45 اور این آئی سی وی ڈی میں 40افراد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔

سندھ گورنمنٹ اسپتال نیو کراچی میں 23،لیاقت آباد میں 10 اور کورنگی میں 2افراد جان سے گئے جبکہ لیاری جنرل اسپتال میں 17 ، ملیر میں 3، کے پی ٹی میں 2 اور پٹیل اسپتال میں 23افراد قیامت خیز گرمی کا شکار ہوئے، گرمی سے35 فیصد اموات گھریلو خواتین کی ہوئیں۔

منظر ایسا تھا کہ نہ سردخانوں میں جگہ تھی اور نہ قبرستانوں میں ایدھی فاؤنڈیشن نے 100 سے زائد لاشوں کو لاوارث قرار دے کر مواچھ گوٹھ قبرستان میں دفن کیا۔

1200افراد کی ہلاکت کے بعد حکمران جاگے، المیہ یہ تھا کہ وفاقی اور صوبائی وزرا ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے کسی نے بجلی بحران تو کسی نے پانی کی قلت کو ہلاکتوں کی وجہ قرار دیا۔

کراچی میں اس سال بھی سورج آگ برسائے گا لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ سائیں سرکار انتظامات کرے گی، یا پھر پانی سر سے گزرنے کا انتظارہوگا،صرف وعدے ، دعوے اور دورے ہونگے یا پھر متعلقہ ادارے اپنا کام کریں گے ۔