ہیٹ ویو یا گرمی سے بچاؤ کے طریقے

October 11, 2017

کراچی : رواں ماں کراچی میں جون جولائی جیسی تپتی گرمی سے بچاؤ کیلئے ماہرین کی جانب سے مختلف طریقے تجویز کیے گئے ہیں، ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ چند آسان باتوں پر عمل کرنے سے آپ کیسے گرمی کے احساس کو کم اور ہیٹ ویو کے خطرے سے بچ سکتے ہیں۔

آج کل گرمی کی شدید لہرجاری ہے جس کا مقابلہ کرنے کیلئے نئے نئے طریقے بھی مارکیٹ میں متعارف کروائے جارہے ہیں تاکہ آگ اگلتے سورج کی تیپش کا مقابلہ کیا جاسکے۔ پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں رہی سہی کسر بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے پوری کر رکھی ہے۔ گرمی اور لوڈشیڈنگ کے دہراے عذاب سے لوگوں کو روزانہ عجیب کرب اور مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ دن کو آرام ملتا ہے اور نہ ہی رات کو نیند پوری ہوتی ہے۔ ایسے میں کئی لوگوں کی صلاحیتیں بھی کھل کرسامنے آتی ہیں جو گرمی سے بچاو کیلئے منفرد طریقے تلاش کرتے رہتے ہیں

:زیادہ سے زیادہ پانی پئیں

گرمی میں اپنے روزانہ کے معمول میں پانی کا استعمال بڑھائیں۔ روزانہ کم از کم آٹھ گلاس پانی ضرور پیئیں۔ اگر موڈ سادے پانی کا نہ ہو تو اس میں آپ پودینے کے پتے یا نیبو بھی شامل کرکے استعمال کر سکتے ہیں، جو ڈی ہائیڈیشن کا مقابلہ کرنے کیلئے آزمودہ ہے۔ پانی آپ کے جسم کے درجہ حرارت کو معمول پر رکھتا ہے چنانچہ گرمی کے دنوں میں زیادہ سے زیادہ پانی پئیں۔

:بچوں کو بند کار میں نہ چھوڑیں

جھلستی گرمی میں جہاں بڑوں کو احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، وہی بچوں کا بھی خصوصی خیال رکھا جائے، انہیں زیادہ سے زیادہ گھر کے اندر رکھیں، ٹھنڈی جگہ میں بیٹھے اور سونے دیں۔ دن کے اوقات میں اگر باہر جانا ہو تو بند گاڑی میں کبھی بھی بچوں یا جانوروں کو نہ چھوڑیں۔ یہ عمل ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ بچوں کو بھی زیادہ پانی کی عادت ڈالیں۔

:اپنا شیڈول ترتیب دیں

شدید گرمی کے دنوں میں باہر نکلنے سے زیادہ سے زیادہ پرہیز کریں۔ کوشش کریں کہ باہر نکلنے والے کام صبح سورج نکلنے سے پہلے یا شام کے وقت نمٹالیں۔ باہر نکلتے وقت چھوٹا تولیا یا رومال گیلا کرکے ساتھ لے جائیں اور وقفے وقفے سے اسے سر اور چہرے پر استعمال کرکے گرمی کے احساس کو بھگائیں۔

:باہر نکلتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں

گھر سے باہر نکلتے ہوئے سن اسکرین، دھوپ کے چشمے اور کیپ کا استعمال کیجیئے۔ سورج کی براہ راست تپش سے جتنا زیادہ محفوظ رہیں اتنا ہی بہتر ہے، تاہم اس کے کیلئے ضروری ہے کہ تیز دھوپ سے بچنے کیلئے غیر معیاری چشمے استعمال کرنے سے پرہیز کیا جائے جو آنکھوں کیلئے نقصان کا سبب بنتے ہیں۔

ڈھیلے کپڑے پہنیں

ڈھیلے اور ہلکے رنگوں کے ملبوسات کاٹن جیسے ہوادار کپڑوں میں پہنیں، تاکہ پسینہ سوکھ سے۔ اگر آپ مچھروں کے کاٹنے کے وقت باہر ہوں، تو پوری پینٹیں اور بند جوتے پہنیں۔ اگر آپ شام کے وقت پارک میں جائیں، تو جرابیں ٹخنوں سے اوپر چڑھائیں، اور شرٹ پینٹ کے اندر اڑس لیں

گھر میں ورزش کریں

ورزش کرنے کے لیے دن کے ٹھنڈے وقت کا انتخاب کریں، یعنی جب سورج کی گرمی کم ہو، جیسے صبح یا شام کے وقت۔ اگر موسم گرم اور نمی والا ہو، تو زیادہ سخت اور زیادہ دیر تک ورزش نہ کریں۔ اس کے علاوہ ورزش کرنے کے لیے کسی ٹھنڈی جگہ کا انتخاب کرنا بھی برا نہیں ہوگا، جیسے جِم، مال، یا ایسی ہی کوئی جگہ۔ اس طرح آپ پر تھکان طاری نہیں ہوگی۔

گرم پانی میں نہانے سے پرہیز کریں

نیگلیریا فولیری کو گرم پانی بہت پسند ہوتا ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ سوئمنگ پول میں کلورین اچھی طرح شامل ہو، یا پھر کم گہرے اور گرم پانی والی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے اجتناب کریں۔ اس لاعلاج اور ہلاکت خیز مرض سے صرف بچا ہی جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ناک کے کلپ خریدیں، اور اپنا سر پانی سے اوپر رکھیں تاکہ پانی کو ناک میں جانے سے بچایا جا سکے۔

ٹھنڈے کھانوں کو ٹھنڈا اور گرم کھانوں کو گرم رکھنا چاہیے۔ جب بھی آپ کھانا کھا چکے ہوں، تو بچے ہوئے کھانے کو فوراً ریفریجریٹر میں رکھ دینا چاہیے۔ دو گھنٹے سے زیادہ دیر تک کھانا باہر نہیں رکھنا چاہیے۔ اگر دن زیادہ گرم ہو، تو یہ وقت صرف ایک گھنٹہ ہونا چاہیے۔ اس بات کا دھیان رہے کہ کھانے کی چیزیں ٹھنڈی یا گرمی سے بچانے والی تھیلیوں میں بند ہوں۔ علینہ اسلام کا کہنا ہے کہ "کیفین اور تیل سے بھرپور چیزیں، اور تلے ہوئے یا پیک شدہ کھانے کم کر دینی چاہیئں۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھا دینا چاہیے، خاص طور پر کچا سلاد اور ایسے پھل کھانے چاہیئں جن میں پانی زیادہ ہو جیسے کھیرا، تربوز، آم، کینو، خربوزہ، گاجر، وغیرہ۔" سماء

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.