Sunday, November 28, 2021  | 22 Rabiulakhir, 1443

جوان اور خوبصورت بنانے والا جدید مشروب

SAMAA | - Posted: Oct 17, 2016 | Last Updated: 5 years ago
Posted: Oct 17, 2016 | Last Updated: 5 years ago

natural-remedies-for-acne-green-tea
لندن : جدید دور کا مقبول مشروب کافی یمن سے برصغیر پاک و ہند میں پہنچا، بابا بودن نامی ایک فقیر یمن سے کافی کے سات بیج کمر بند میں چھپا کر ہندوستان لے آئے،جہاں بابا بودن کا مسکن جنوبی ہند کا شہر میسور بنا، بعد ازاں 1675 میں کرسمس سے دو دن پہلے شاہ چارلس نے انگلینڈ میں کافی کے استعمال پر پابندی لگادی، لیکن دو ہفتے میں اسے فیصلہ واپس لینا پڑا۔
cof
غیر ملکی خبر رساں ادارے میں شائع رپورٹ کے مطابق جدید دور کے مقبول مشروب کافی کے بارے میں عمومی رائے یہ ہے کہ یہ مغرب کا مشروب ہے، مگر دلچسپ حقیقت ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ کو علاقہ یمن سے برصغیر پاک و ہند میں پہنچی۔

tea-meditation
برطانوی نشریاتی ادارہ کی رپورٹ کے مطابق 15 ویں صدی میں بابا بودن نامی ایک فقیر یمن سے کافی کے سات بیج کمر بند میں چھپا کر ہندوستان لے آئے، بابا بودن کا مسکن جنوبی ہند کا شہر میسور بنا۔

and-it-begins-art-beautiful-coffe-coffee-Favim.com-340708

کچھ سرمایہ داروں نے چھوٹے پیمانے پر کافی کی زراعت کا آغاز کیا اور 1840 میں پہلی بار ہندوستان کے جنوبی علاقے کرناٹک میں کافی کی زراعت اور پیداوار بڑے پیمانے پر ہونے لگی۔

tumblr_ma8hwrS0FC1rcnkero1_500

جلد ہی جنوبی ہند کے دوسرے علاقے تمل ناڈو اور کیرالہ بھی اس کی گرفت میں آ گئے، 19 ویں صدی میں انگریزوں نے کافی کی زراعت کو بڑھاوا دیا اور کافی تجارت کا اعلی وسیلہ بن گئی۔

beautiful-book-coffee-cup-cute-Favim.com-454986

کافی جنوبی ہند کے لوگوں کا آج بھی محبوب مشروب ہے۔ ان کی صبح کافی کی پیالی سے ہوتی ہے اور شام بھی کیونکہ یہ تھکن دور کرنے کا بھی وسیلہ ہے۔

beautiful-coffee-colors-cookies-cup-disney-Favim.com-75937

سال 1870 کے عشرے میں چائے کی مقبولیت نے کافی کی تجارت پر گہرا اثر ڈالا لیکن سرکاری امداد سے لوگوں نے کافی کی زراعت کو برقرار رکھا۔ 1940 میں ہندوستان میں پہلا کافی ہاؤس وجود میں آیا۔

tanamera-coffee
کافی کے تعلق سے مختلف دلچسپ کہانیاں ہیں،1511 میں مکہ گورنر خیر بیگ نے عربستان میں کافی کے استعمال پر پابندی لگانے کی جان توڑ کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے، کافی ہم تک پہنچنے کی کہا بھی دلچسپ ہے۔

beautiful-coffee-cup-lovely-Favim.com-531457

کہتے ہیں کہ کالدی نامی ایک چرواہے کی بکریوں نے آس پاس لگی جھاڑیوں کے کچھ بیج کھا لیے اور دیکھتے ہی دیکھتے وجد میں آ کر کودنے لگیں۔

tanamera-coffee
چرواہا بکریوں کی اس حرکت سے بڑا پریشان ہوا اور آگے بڑھ کر اس نے بھی ایک بیج چبا ڈالا اور اسی کیفیت سے دوچار ہوا۔ 17 ویں اور 18ویں صدی کے کافی خانے آج کے کافی خانوں سے بہت مختلف تھے، یورپ میں انھیں پینی یونیورسٹی کے نام سے پکارا جاتا تھا کیونکہ یہ ادبی اجتماع اور روشن خیال لوگوں کا مرکز تھے۔

cup_of_coffee-t2

سال 1674 میں لندن کی خواتین نے کافی خانوں کی مقبولیت کے خلاف آواز اٹھائی کہ یہ کافی خانے مردوں کو لمبے وقت کے لیے گھر سے باہر رکھتے ہیں۔ 1675 میں کرسمس سے دو دن پہلے شاہ چارلس نے انگلینڈ میں کافی کے استعمال پر پابندی لگا دی لیکن دو ہفتے کی قلیل مدت میں اسے اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔

statements_475598
کافی کا یہ چھوٹا سا بیج دنیا کے نشیب و فراز سے گزر کر آگے بڑھتا گیا اور آج اسے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہے۔ جاپان جسے چائے کی تہذیب کا مرکز کہا جاتا ہے وہاں کے لوگ اب کافی کے دلدادہ ہیں۔ اس کی مقبولیت کی دوسری وجوہات بھی ہیں۔

cup2-600x448

کافی کی ایک پیالی آپ کو 11 فی صد وٹامن بی2، چھ فی صد وٹامن بی5، تین فیصد میگنیز اور دو فی صد میگنیشیم دیتی ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بدن میں چربی کم کرنے میں مددگار ہے اور جگر کے لیے فائدہ مند ہے۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube