Monday, November 29, 2021  | 23 Rabiulakhir, 1443

بھارت میں ایک اور اشتہار مذہبی جذبات کی نذر

SAMAA | - Posted: Oct 20, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Oct 20, 2021 | Last Updated: 1 month ago

ملبوسات کی بھارتی کمپنی فیب انڈیا نے اپنی نئی کلیکشن کے ‘اردونام ‘ پر انتہاپسندوں کے مشتعل ہونے اورآن لائن تنقید کے بعد معذرت کرتے ہوئے اشتہارواپس لے لیا۔

دیوالی سے قبل لانچ کی جانے والی اس کلیکشن’ جشنِ رواج ‘ کے نام کو بنیاد بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر کمپنی پرپابندی عائد کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق فیب انڈیا نے کپڑوں کے اشتہارمیں دیوالی سمیت دیگر ہندو رسوم ورواج کو اجاگرکیا لیکن اس کا ٹائٹل اردوزبان میں رکھے جانے کی بناء پرمخالفت کا سامنا کرنا پڑااور کمپنی کے بائیکاٹ کی آن لائن مہم چلا دی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹائمز آف انڈیا کی جانب سے رابطہ کرنے پر کمپنی کے ترجمان نے واضح کیا کہ یہ اشتہار دیوالی کے لیے ریلیز نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کا مقصد عام ہندوستانی روایات دکھانا ہے اور ’جشن رواج‘ کا مطلب بھی روایتوں کی تشہیر ہے۔

فیب انڈیا کے مطابق ان کے دیوالی کلیکشن کی لانچ باقی ہے جسے ‘جھلمل دیوالی ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

فیب انڈیا پر دیوالی کا نام بدلنے سے لے کر ہندو تہواروں کے موقع پرسیکولرازم کی تبلیغ تک کا الزام عائدکیا گیا۔

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما تیجاسوی سوریا نے کمپنی پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘دیوالی جشن رواج’ نہیں ہے۔

کنیادان نہیں کنیامان : بھارتی پھرمشتعل

گزشتہ ماہ عالیہ بھٹ نے عروسی ملبوسات کی برانڈ مانیاورکے ‘ موہے فیشن ‘ کیلئے ایک اشتہارشوٹ کروایا تھاجس میں ہندومذہب میں شادیوں کے حوالے سے قدیم اوراہم ترین سمجھی جانے والی رسم ‘ کنیادان’ کی حیثیت پرسوال اٹھائے گئے ہیں۔

شادی کے منڈپ پر دلہا کے ہمراہ بیٹھی عالیہ میکے میں ملنے والے پیاراور مان کے علاوہ اپنے ذہن میں آنے والے خدشات کو زبان دیتی ہیں۔ اشتہارکو’ کنیا مان، نئی سوچ نیا آئیڈیا ‘ کا نام دیتے ہوئے پیغام دیا گیا تھا کہ لڑکی کی رخصتی کے وقت کنیادان کے بجائے کنیا مان ہونا چاہیے۔۔

عالیہ کے کہے گئے ہرجملے کے پیچھے معاشرے میں عورت کےمقام پرسوال اٹھایا گیا جس پرہندوانتہا پسندوں کے شدید احتجاج کے بعد کمپنی کی جانب سے معذرت کی گئی تھی۔

ٹاٹا گروپ کی ملکیت زیورات کی کمپنی تنشق کا اشہار

اس سے قبل اکتوبر 2020 میں زیورات بنانے والی بھارتی کمپنی ‘ تنشق’ نے اپنے اشتہارمیں ہندو لڑکی کو مسلمان گھرانے کی بہو دکھاتے ہوئے مثبت پیغام دیا تھا، تاہم شدید تنقید اور سوشل میڈیا پرمذہبی منافرت چھڑجانے کے بعد اسے اشتہار ہٹانا پڑا تھا۔ تنشق جیولرز بھارت کے بڑے کاروباری اداروں میں سے ایک ٹاٹا گروپ کی ملکیت ہے۔

انتہا پسند بھارتیوں کی جانب سے سخت تنقید کےبعد سوشل میڈیا پرہیش ٹیگ ” بائیکاٹ تنشق” ٹرینڈ کر نے لگا اور بیشتر نے ٹویٹس میں کہا کہ یہ بھارت میں ” لو جہاد” پروان چڑھانے کیلئے بنایا گیا۔ لوجہاد کی اصطلاح مسلمان مردوں کی ہندو خواتین سے شادی کی صورت میں استعمال کی جاتی ہے، بھارتی انتہا ہسند دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کرشادی کے بعد مذہب تبدیل کروادیتے ہیں۔

مسلم فیملی کی ہندوبہو” ایک اشتہارنے بھارت میں تنازع کھڑاکردیا

اس اشتہارپراٹھنے والے تنازع کے بعد امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھِی اس حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ویڈیو میں 2 مذاہب کے درمیان ہم آہنگی دکھائی گئی مگر انتہا پسندوں نے اسے اپنے خلاف قرار دیا۔ اس کے بائیکاٹ کی مہم چلانے والے افراد میں بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے اہم ارکان بھی شامل تھے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز مہم میں نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے اضافہ دیکھا گیا ۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube