Friday, October 22, 2021  | 15 Rabiulawal, 1443

کنیا دان نہیں کنیامان:عالیہ بھٹ کےاشتہار سےبھارتی مشتعل

SAMAA | - Posted: Sep 23, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
Posted: Sep 23, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

عالیہ بھٹ کے ایک نئے اشتہارنے اداکارہ کنگنا رناوٹ سمیت متعدد بھارتیوں کے مذہبی جماعت مجروح کردیے۔

دلہن بنی عالیہ نے عروسی ملبوسات کی برانڈ مانیاورکے ‘ موہے فیشن ‘ کیلئے ایک اشتہارشوٹ کروایا جس میں ہندومذہب میں شادیوں کے حوالے سے قدیم اوراہم ترین سمجھی جانے والی رسم ‘ کنیادان’ کی حیثیت پرسوال اٹھائے گئے ہیں۔

شادی کے منڈپ پر دلہا کے ہمراہ بیٹھی عالیہ میکے میں ملنے والے پیاراور مان کے علاوہ اپنے ذہن میں آنے والے خدشات کو زبان دیتی ہیں۔ اشتہارکو’ کنیا مان، نئی سوچ نیا آئیڈیا’ کا نام دیا گیا ہے۔

اشتہارمیں ایسا کیا دکھایا گیا؟۔

عالیہ کے کہے گئے ہرجملے کے پیچھے معاشرے میں عورت کےمقام پرسوال اٹھایا گیا ہے، آغازمیں وہ کہتی ہیں ‘ دادی بچپن سے کہتی ہیں تُو اپنے گھرجائےگی تو تجھے بہت یاد کروں گی‘ کیا یہ گھرمیرا نہیں ہے؟، پھر والد کے ساتھ لاڈ پیاراورشرارتی اندازتصویربنوانے کے بعد اگلا جملہ کہتی ہیں ، ‘سب کہتے تھے پرایا دھن ہے ،اتنا مت بگاڑو، انہوں نے سناہی نہیں پرکبھی یہ بھی نہیں کہا کہ نہ میں پرائی ہوں نہ دھن’۔

دادی اور والد کے بعد والدہ کی نظروں ہی نظروں میں پیار بھری تنبیہہ کو خاطرمیں نہ لانے والی دلہن مسکرا کرکہتی ہے، ‘ماں مجھے چڑیا بلاتی ہے،کہتی ہیں اب تیرا دانہ پانی کہیں اورہے پرچڑیا کا تو پورا آسمان ہوتا ہے نا’۔

اشتہارکے آخرمیں عالیہ بھٹ کہتی ہیں، ‘الگ ہوجانا، پرایا ہوجانا، کسی اورکے ہاتھ سونپاجانا، میں کوئی دان کرنے کی چیزہوں؟ کیوں صرف کنیا دان؟’۔

فیشن برانڈ آخرمیں اس پیغام کو پُراثربناتے ہوئے دکھاتے ہیں کہ دلہن کا یہ شکوہ سمجھتے ہوئے دلہا کی والدہ سب کواشارہ کرتی ہیں اور کنیادان کی رسم میں صرف دلہا کے ہاتھ پردلہن کا ہاتھ رکھنے کے بجائے سب نیچے اپنا ہاتھ رکھتے ہیں۔ عالیہ بھٹ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں، ‘نیا آئیڈیا، کنیا مان’۔

سوشل میڈیا پرتنقید

نئے خیالات کی حامل اورمساویانہ حقوق کی علمبرداری کرتی اس دلہن کو سوشل میڈیا پر تعریف کے ساتھ ساتھ تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ سخت گیر ہندوافراد نے اسے اپنے مذہب کی توہین قراردیا۔

بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوٹ نے انسٹاپوسٹ میں عالیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا، ‘تمام برانڈز سے درخواست ہے کہ اپنی مصنوعات فروخت کرنے کیلئے مذہب، اقلیت واکثریت کی سیاست نہ کریں، ایسی جونکیں نہ بنیں جو صرف ہندو مذہب کو برا بھلا کہیں کیونکہ یہ سب سے زیادہ برداشت کا مذہب ہے۔ایسے اشتہارات سے صارفین کو جال میں پھنسانے کا سلسلہ فوری بند ہونا چاہیے’۔

صارفین نے واضح کیا کہ کنیا دان کا مطلب ہرگزیہ نہیں ہوتا کہ والدین اپنی بیٹی کو عطیہ یا دان کررہے ہیں۔ اشتہار لکھنے والا پہلے اس کا حقیقی مطلب سمجھے۔

اشتہار پرپابندی اورعالیہ سمیت مذکورہ فیشن برانڈ کے بائیکاٹ کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

اس بات سے قطع نظرکہ اشتہارایک بھارتی برانڈ کی جانب سے بنایاگیا، مشتعل صارفین یہاں بھی ہندو اور مسلمان مذاہب کا موازنہ لے بیٹھے، اسلام میں 4 شادیوں کی اجازت اور حلالہ سے متعلق طنزآمیز ٹویٹس بھی کی گئیں۔

اس سے قبل اکتوبر 2020 میں زیورات بنانے والی بھارتی کمپنی ‘ تنشق’ نے اپنے اشتہارمیں ہندو لڑکی کو مسلمان گھرانے کی بہو دکھاتے ہوئے مثبت پیغام دیا تھا، تاہم شدید تنقید اور سوشل میڈیا پرمذہبی منافرت چھڑجانے کے بعد اسے اشتہار ہٹانا پڑا تھا۔ تنشق جیولرز بھارت کے بڑے کاروباری اداروں میں سے ایک ٹاٹا گروپ کی ملکیت ہے۔

انتہا پسند بھارتیوں کی جانب سے سخت تنقید کےبعد سوشل میڈیا پرہیش ٹیگ ” بائیکاٹ تنشق” ٹرینڈ کر نے لگا اور بیشتر نے ٹویٹس میں کہا کہ یہ بھارت میں ” لو جہاد” پروان چڑھانے کیلئے بنایا گیا۔ لوجہاد کی اصطلاح مسلمان مردوں کی ہندو خواتین سے شادی کی صورت میں استعمال کی جاتی ہے، بھارتی انتہا ہسند دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کرشادی کے بعد مذہب تبدیل کروادیتے ہیں۔

مسلم فیملی کی ہندوبہو” ایک اشتہارنے بھارت میں تنازع کھڑاکردیا

اس اشتہارپراٹھنے والے تنازع کے بعد امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھِی اس حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ویڈیو میں 2 مذاہب کے درمیان ہم آہنگی دکھائی گئی مگر انتہا پسندوں نے اسے اپنے خلاف قرار دیا۔ اس کے بائیکاٹ کی مہم چلانے والے افراد میں بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے اہم ارکان بھی شامل تھے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز مہم میں نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے اضافہ دیکھا گیا ۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube