Saturday, October 23, 2021  | 16 Rabiulawal, 1443

شہریارآفریدی کوامریکی ماؤں بہنوں کی فکر مہنگی پڑی

SAMAA | - Posted: Sep 21, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Editing & Writing | Kokab Mirza
Posted: Sep 21, 2021 | Last Updated: 1 month ago
فائل فوٹو

پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیرامورکے چیئرمین شہریارآفریدی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے امریکا گئے تھے لیکن امریکیوں کی ‘حالت زار’ پربنائی جانے والی ایک ویڈیونے انہیں موضوع بحث بنادیا۔

نیو یارک کے قلب ٹائمزاسکوائرمین ہٹن کی سڑکوں پرمٹرگشست کرتے ہوئے بنائی جانے والی اس وائرل ویڈیو میں شہریار آفریدی کے الفاظ اور لب ولہجہ بےگھرامریکی افراد کیلئے ہمدردی سے لبریز ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات پربھی زوردے رہا ہے کہ سُپرپاور کہلانے والے ملک میں لوگوں کا یہ حال ہے لیکن پاکستان میں وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ لنگرخانے اور پناہ گاہیں ایسی تکالیف کا شکار افراد کیلئےہرمسئلے کا حل ہیں۔

آفیشل فیس بک پیج پر اپ لوڈ کی جانے والی اس 6 منٹ اور 40 سیکنڈز دورانیے کی ویڈیو میں شہریارآفریدی رات کے وقت ٹائمز اسکوائرپرموجود ہیں جہاں ان کے اطراف بینچوں ، زمین پر لیٹے ،بیٹھے ہوئے یا چہل قدمی کرتے دیکھے جاسکتے ہیں، ان میں بےگھرافراد بھی شامل ہیں۔

کشمیر پربنائی جانے والی کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ‘وہ ملک جو پوری دنیا کا نظام کنٹرول کررہا ہے، جس کی پوری دنیا میں عزت ہے جو ایک قسم کا مائی باپ بنا ہوا ہے، یہاں انکے لوگوں کی زندگی دیکھیں۔ ان کی اولادیں فٹ پاتھ پرہیں، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ریاست ان کی ماں ہے۔ میں ہرطرف یہ دیکھ رہا ہوں اورمیرا دماغ اسے تسلیم نہیں کر رہا ‘۔

شہریار آفریدی کے آفیشل فیس بک پیج پر شیئرکی جانے والی ویڈیو ایڈٹ شدہ ہے جس میں اس نقطے پروزیراعظم کی جانب سے پاکستان میں بنائی جانے والے لنگرخانوں اور پناہ گاہوں کے ذکرکے ساتھ ہی متعلقہ تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا جب میرے وزیراعظم نے لنگرخانے اور پناہ گاہیں بنائیں تو مذاق اڑایا گیا، وہ حکمران جس کے دل میں انسانیت کے حوالے سے درد نہ ہو وہ انسان نہیں ہوتے،۔ فخرکریں کہ اللہ نے ہمیں ایسا وزیراعظم دیا۔ خود کو مہذب سمجھنے والوں کا یہ حال ہے کہ ایسے لوگوں کو کوئی والی وارث نہیں۔ امریکا اور یورپ کے پیچھے بھاگنے والے دیکھ لیں انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ‘۔

اُن کا مزید کہنا ہے کہ ، ‘جس دین کے ماننے والے ہیں اورجو ہماری روایات ہیں، چاہے وہ بلوچ ہیں، چاہے وہ سندھی ہیں،چاہے وہ پنجابی ہیں، چاہے وہ مہاجرہیں، چاہے وہ سرائیکی ہیں، چاہے وہ پشتون ہیں، چاہے وہ طالبان ہیں، چاہے وہ گلگت بلتستانی، کشمیری ۔۔۔ وہ اپنی ماؤں بہنوں کوعزت دیتے ہیں ‘۔


اسی دوران وہ سیڑھیوں پر بیٹھی خاتون کی جانب اشارہ کرکےکہتے ہیں، ‘ی دیکھیں یہ بھی امریکا کی بیٹی ہے۔ یہ کسی کی بیٹی ہے، بہن ہے، ماں ہے، دیکھیں یہ مین ہٹن ہے۔انسانیت کے،انسانی حقوق کے علمبردار، خدا کے لیے اپنی قدروں کو پہچانو، اپنی بنیاد سے جڑجاؤ۔ یہ کوئی سیاسی نعرے نہیں یہ حقیقت ہے۔آنکھوں سے دیکھی ہوئی وہ حقیقت ہے جو وجود رکھتی ہے’ ۔

وہاں موجود امریکیوں کی ہمدردی میں شہریارآفریدی کا مزید کہنا تھا کہ جو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔ وہ جو ہمیں لیکچردیتے ہیں، آئیں دیکھیں ان کی بیٹیوں کا کیا حال ہے، عام باسیوں کا کیا حال ہے۔

ویڈیو پرتنقید

شہریارآفریدی کے عہدے اور امریکا میں ان کی موجودگی کے پیش نظریہ تنقیدی ویڈیو انہیں مہنگی پڑی، سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس اقدام پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

صحافی تنزیل گیلانی نے ویڈیو کلپ ٹویٹ کرتے ہوئےطنزا لکھا۔ ‘یہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ قوم کی بیٹی انجوائے کرو، ناقابل یقین ‘۔

اس رویے کو ناقابل فہم اور باعث تشویش سمجھتے ہوئے جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی پروفیسراور صحافی جوئیس کارم نے لکھا ‘ پاکستانی قانون سازشہریار آفریدی کی امریکی خواتین اور اقدار پر تنقید کرتے ہوئے، نیویارک کے ٹائمز اسکوائرمیں چھٹی کے دن ٹہلتے ہوئے ویڈیو ‘۔

جوئیس نے ویڈیو میں شہریار آفریدی کی امریکی برانڈ ‘ لیوائس’ کی ٹی شرٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ، ‘ مسٹرآفریدی کیلئے ٹی شرٹ کا دلچسپ انتخاب ، جو پاکستانی پارلیمنٹ میں کشمیر پر خصوصی کمیٹی کے سربراہ ہیں ۔ اور مغربی اقدارکے زوال پرلیکچر دیتے ہیں ‘۔

ایک صارف اسد مندوخیل کا کہنا ہے کہ ایسی حرکتوں سے ریاست کو نقصان پہنچے گا۔ انہیں سفارتی آداب کون سکھائے گا؟۔

سینیٹرشیری رحمان کے پاس شہریار آفریدی کی اس ویڈیوپرتبصرے کیلئے الفاظ ہی ختم ہوگئے۔

معروف صحافی انصار عباسی نے شہریار آفریدی کی باتوں سے مکمل اتفاق کیا۔

ویڈیو کی خاص بات پس منظرمیں گلوکارراحت فتح علی خان کا ویمبلے ایرینا میں لائیو کنسرٹ کے دوران گانا جانے والا نغمہ ‘ تم اپنا نظریہ پاس رکھو، ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں’ ہے جو پوری ویڈیو کے دوران اس زوروشور سے سنائی دے رہا ہے کہ کئی مواقع پر شہریار آفریدی کی آواز دب جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے کا 76ویں اجلاس کا آغاز 14 ستمبرکو ہوا تھا، جس پر منگل 21 ستمبر کو بحث کا سلسلہ شروع ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube