Friday, September 24, 2021  | 16 Safar, 1443

لاہوروالے راوی میں کشتیاں کیوں بہاتےہیں؟

SAMAA | - Posted: Sep 10, 2021 | Last Updated: 2 weeks ago
Posted: Sep 10, 2021 | Last Updated: 2 weeks ago

تصاویر: آن لائن

لاہور میں ہرسال غوث الاعظم سید شیخ عبدالقادرجیلانی کے عُرس کے موقع پرعقیدت مند علامتی کشتیاں لیے انہیں راوی میں بہانے پہنچتے ہیں۔

بغداد میں مدفون غوث الاعظم سید شیخ عبدالقادرجیلانی کا عُرس ہرسال روایتی اندازمیں منایاجاتا ہے جہاں دنیا بھرسےعقیدت مند اکٹھا ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں اس عُرس کی پہچان راوی کنارے ایک میلے کا سا سماں ہے۔

 

یہاں جمع ہونے والا ہجوم ڈھول باجوں کے شورمیں نذرونیاز کے ساتھ ایک عجیب سے جذبے سے سرشارنظرآتاہے۔ آس ومراد پوری ہونے پرکشتی دریا میں بہانے کی اس رسم کا ایک دلچسپ پس منظر ہے۔

گزشتہ روزلاہورمیں اسی روایت کی یاد تازہ کرتے ہوئے کشتیاں دریاں میں بہائی گئیں۔

 

یہ رسم ایک صدیوں پرانی روایت سے منسوب ہےکہ سیدنا غوث پاک بغداد میں دریا کی طرف تشریف لے گئے تو وہاں 90 سال کی ایک ضعیف خاتون کو دیکھا زارو قطاررورہی تھی ۔ ایک مرید نے انہیں بتایا کہ ‘ اس ضعیفہ کا اکلوتا خوبروبیٹا نکاح کرکے دلہن کو اسی دریا میں کشتی کے ذریعے اپنے گھر لارہاتھاکہ کشتی الٹ گئی اورساری بارات ڈوب گئی۔ اس واقعہ کو 12سال گزرچکے ہیں مگرماں کا غم نہیں جاتا، یہ روزانہ یہا ں دریا پرآتی ہے اوربارات کونہ پاکررودھوکرچلی جاتی ہے’۔

منسوب ہے کہ اس ضعیف خاتون پرترس کھاتے ہوئے سید شیخ عبدالقادرجیلانی نے بارگاہ الہیٰ میں دُعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیے، چند منٹ تک کچھ ظہورنہ ہوا تو بے تاب ہوکرعرض کی ، ‘ یااللہ عزوجل!اس قدر تاخیر کی کیاوجہ ہے؟۔ ارشادہوا:’’اے میرے پیارے!یہ تاخیر خلافِ تقدیرنہیں ہے ، بارات کو ڈوبے ہوئے 12 سال ہوچکے ہیں،اب نہ وہ کشتی باقی رہی ہے نہ ہی اس کی کوئی سواری، تمام انسانوں کا گوشت وغیرہ بھی دریائی جانور کھاچکے ہیں، ریزہ ریزہ کو اجزائے جسم میں اکٹھاکرواکردوبارہ زندگی کے مرحلے میں داخل کر دیا ہے اب ان کی آمد کاوقت ہے‘‘ ۔

ابھی یہ کلام اختتام کو بھی نہ پہنچاتھاکہ یکایک وہ کشتی اپنے تمام ترسازوسامان کے ساتھ بمع دولہا،دلہن اورباراتیوں کے سطح آب پر نمودارہوگئی اور چندہی لمحوں میں کنارے آلگی، تمام باراتی دعائیں لے کرخوشی خوشی اپنے گھر پہنچے، اس کرامت کو سن کربے شمارکفّارنے آکر سیدنا غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دستِ حق پرست پراسلام قبول کیا۔

 

اس اقدام کی بڑی وجہ بیٹے کی پیدائش کے حوالے سے مانی گئی منت بھی ہوتی ہے جس کے پورا ہونے پر عقیدت مند آئندہ سال نذرونیازکرتے اورکشتی بہاتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube