بیان واپس لیں ورنہ آپ میرے وزیراعظم نہیں

SAMAA | - Posted: Apr 10, 2021 | Last Updated: 4 months ago
Posted: Apr 10, 2021 | Last Updated: 4 months ago

عائشہ عمر، حمزہ عباسی کو بھی بیان پرتحفظات

ملک میں زیادتی کے بڑھتے ہوئے کیسز سے متعلق وزیراعظم عمران خان کے بیان پرشوبزشخصیات بھی انہیں تاحال یاد دلارہی ہیں کہ خواتین کی عصمت دری کا ان کے لباس سے کوئی لینا دینا نہیں۔

آمنہ الیاس نے انسٹا پر شیئرکی جانے والی ویڈیو میں غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا '' وزیراعظم سے درخوست ہے اپنی بات کی مکمل وضاحت کریں، بھینسیں ،مرغیاں، ڈولفنز، گھوڑے، کتے، بلیاں اور بچے، ان کی رہنمائی کریں کہ کیسے فحش نہ ہوں، جتنا فوکس آپ نے فحاشی پرکیا اس کا 50 فیصد بھی قانون پرکریں تو بہت فرق پڑے گا ''۔

اداکارہ نے کہا '' جناح اور بھٹوکے بعد آپ واحد وزیراعظم ہیں جس کی بات پوراپاکستان آپ کی بات سنتا ہے، آپ نے کہا ارطغرل دیکھو ، فلاں کتاب پڑھو تو پوری قوم نے ایسا کیا، آپ کے اس بیان سے کتنا نقصان ہونے والا ہے؟اس بات کا اندازہ آپ کو کب ہوگا؟ ''۔

آمنہ نے وزیراعظم کے نام اپنے پیغام میں مزید کہا '' آپ کو یوٹرن لینے کا بہت شوق ہے تو پلیز اپنا بیان واپس لیں ورنہ آج سے میرے آپ میرے وزیراعظم نہیں ہیں''۔

اداکارہ عائشہ عمر نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یہ طاقت، جبروتسلط اور تشدد سے متعلق ہے۔

انہوں نے لکھا '' 4 ماہ کی بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، بچوں کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ برقعہ پہنے خواتین ، جانوروں ،خواجہ ، لڑکوں، بہنوں / بیٹیوں کی عصمت دری کی جارہی ہے''۔

اداکارحمزہ علی عباسی بھی وزیر اعظم خان کے خیالات سے متفق نہیں ۔

اداکارہ نادیہ جمیل نے ریمارکس دیے کہ عورت کا جسم صرف اس کا ہے ۔

صحافیوں ، کارکنوں اور وکلا نے بھی وزیر اعظم کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے عصمت دری کی ثقافت کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا۔

وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے بھی ٹوئٹ میں وزیراعظم کے بیان پر مبنی خبر شیئرکہ اور قرآن پاک کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس کی ذمہ داری مردوں پرعائد ہوتی ہے۔

اگلی ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا ہے کہ '' میرا خیال ہے کہ یہ ترجمے کی غلطی ہے یا عمران خان کی بات کو غلط اندازمیں پیش کیا گیا ہے۔کیونکہ جس عمران کو میں جانتی ہوں وہ کہتا تھاکہ پردہ عورتوں کے نہیں بلکہ مردوں کی آنکھوں پر ڈالنا چاہیے'' ۔

وزیراعظم نے اتوار کے روز ٹیلی فون پرعوام سے براہ راست بات چیت کے دوران ملک میں زیادتی بڑھتے واقعات کے بارے میں کہا تھا ’جب آپ معاشرے میں فحاشی پھیلائیں گے تو جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوگا‘۔

وزیر اعظم کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر بحث کی گئی ساتھ ہی کئی سیاسی، سماجی شخصیات اور تنظیموں نے بھی مذمت کی تھی۔پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے بھی وزیر اعظم عمران خان کے جنسی زیادتی کو فحاشی سے جوڑنے کے بیان کی مذمت کی تھی۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. Honey  April 10, 2021 3:51 pm/ Reply

    Imran khan u r 100% right!

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube