میشاشفیع کیس: ڈیلی میل کے باعث بھارت میں مِس رپورٹنگ

SAMAA | - Posted: Mar 15, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 15, 2021 | Last Updated: 4 months ago

متعدد میڈیا پبلیکیشن کی جانب سے یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ہتک عزت کے مقدمے میں میشا شفیع کو تین سال کی سزا سنادی گئی ہے، یہ کیس گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، اس سے قبل میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا ۔

ٹائم آف انڈیا اور آئی بی ٹائمز ی رپورٹ کے مطابق کہ پاکستان کی ایک عدالت نے میشا کو تین سال کی سزا سنائی ہے۔

انڈین پبلیکیشن کو یہ خبر کہاں سے ملی جبکہ کسی بھی پاکستانی میڈیا نے ایسی کوئی خبر شائع نہیں کی۔ ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ مختلف میڈیا پبلیکیشنز نے خبر سمجھے بغیر اور بناء تصدیق دوسرے ٹیبلوئڈز کی خبرنقل کردی۔

وال اسٹریٹ جرنل نے 12 مارچ کو میشا شفیع کے حوالے ایک رپورٹ شائع کی، جس کی سُرخی یہ تھی کہ ’علی ظفر پر الزام لگانے کے باعث میشا کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے‘۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ میشا کی جانب سے پاپ اسٹار علی ظفر پر الزام لگانے کے بعد ملک میں می ٹو مہم کا آغاز ہوا اور اب میشا کو ممکنہ طور پر جیل جانا پڑسکتا ہے ۔

ڈیلی میل کی سرخی

ڈیلی میل نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کا کچھ حصہ اپنی سرخی میں شامل کیا جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ میشا کو ’تین سال قید کا سامنا ہے‘۔ انہوں نے ڈبلیو ایس جے کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا۔

ڈیلی میل کی سرخی میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی گلوکارہ جنہوں نے پاپ اسٹار پر جنسی ہراسگی کا الزام لگایا اور اس کے ساتھ ہی می ٹو نامی تحریک بھی چلائی تھی انہیں ہتک عزت کے الزام میں تین سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔

اسی ضمن میں بھارتی میڈیا آئی بی ٹائمز اور ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے مطابق میشا کو تین سال کی سزا سنائی گئی ہے، زی نیوز نے بتایا کہ انہیں تین سال قید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ زی نیوز نے ڈیلی میل کے حوالے سے یہ خبر شائع کی جبکہ ٹائمز آف انڈیا نے “ایک رپورٹ” کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خبر شائع کی۔

یہ تمام بھارت میں میڈیا کے بڑے ادارے ہیں، آئی بی ٹائمز کو 4 مختلف زبانوں شائع کیا جاتا ہے اور زی نیوز بھارت کا ایک اہم میڈیا ہاوس ہے۔ ٹائمز آف انڈیا ٹائمز نے اپنی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا کہ یہ ہندوستان کی سب سے بڑی ڈیجیٹل پراڈکٹ کی کمپنی ہے۔

خبر کے غلط ہونے کی وجہ

عدالت نے علی ظفر اور میشا شفیع کے کیس میں دونوں میں سے کسی پر بھی فرد جرم عائد نہیں کی لہذا میشا کیلئے ڈیلی میل کی جانب سے لفظ ’قید کا سامنا ‘ استعمال کرنا غلط ہے کیونکہ وال اسٹریٹ کی رپورٹ میں لکھا گیا تھا کہ ’اگر مجرم قرار دیا گیا تو انہیں تین سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے‘۔ جبکہ ڈیلی میل نے پہلا حصہ خارج کردیا اور دوسرا حصہ ہیڈ لائن میں استعمال کیا، ڈیلی میل برطانیہ کا ایک ٹیبلوئڈ ہے جسے غیر تصدیق شدہ خبروں کی اشاعت کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر اداکارعلی ظفر کيخلاف جنسی ہراسانی کی مہم چلانے کے کیس میں ایف آئی اے نے میشا شفیع سمیت دیگر کيخلاف چالان عدالت میں جمع کرایا تھاایف آئی اے کی جانب سے جمع کرائے جانے والے چالان میں گلوکارہ میشا شفیع اور اداکارہ عفت عمر سمیت 8 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ میشا شفیع سمیت دیگر ملزمان نے علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے لیکن ملزمان اپنی صفائی میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکے۔

میشا شفیع کے وکیل اسد جمال نے واضح کیا کہ یہ جعلی خبر ہے، انہوں نے ایک ٹوئٹ کیا جس میں کہا گیا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ٹائمز آف انڈیا نے ایک جھوٹی خبر شائع کی جبکہ عدالت نے کسی بھی ملزم پر فرد جرم عائد نہیں کی ۔

پشِ منظر

واضح رہے کہ اپریل 2018 میں میشا شفیع نے ٹوئٹر پرعلی ظفرکیخلاف الزام عائد کیا تھا کہ وہ انہیں ایک سے زیادہ مواقع پرجسمانی طورپرہراساں کرچکے ہیں، جواب میں علی ظفرنے میشا کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائرکیاتھا۔

علی ظفرنے موقف اختیارکیا کہ میشا شفیع نے 19 اپریل 2018 کو اپنا ٹوئٹراکاونٹ میرے خلاف تحقیرآمیزجملے اورجھوٹے الزامات پوسٹ کرنے کے لئے استعمال کیا۔ ملزمان کو دفاع کے کئی مواقع ديے گئے ليکن وہ تسلی بخش جواب نہيں دے سکے۔ میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزام سے ہفتوں قبل کئی جعلی اکاؤنٹس کی جانب سے میرے خلاف مذموم مہم کا آغازکیا گیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube