Wednesday, October 27, 2021  | 20 Rabiulawal, 1443

می ٹو:غلط الزام لگانےوالے کو سزا ملنی چاہیے،نعمان اعجاز

SAMAA | - Posted: Feb 16, 2021 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 16, 2021 | Last Updated: 8 months ago

اداکار نعمان اعجاز نے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسا کئی بار ہوا کہ کسی تحریک کا غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، اس لیے حکومت کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ جھوٹا الزام لگانے کی بھی سزا ہونی چاہیے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو چند روز قبل انٹرویو دیتے ہوئے اداکار نعمان اعجاز کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں تنازعات بنا دیے جاتے ہیں کیونکہ اس سے لوگوں کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ بات کس تناظراور ماحول میں کی گئی بلکہ بات پکڑ لی جاتی ہے، تاہم تاویلات دینا میری عادت نہیں۔

ڈرامہ سیریل ’ڈنک‘ میں جھوٹے الزام کا شکار ہونے والے پروفیسر کا کردار کرنے پر کچھ حلقوں نے ان پر کڑی نکتہ چینی کی، اس پر نعمان کا کہنا تھا کہ نکتہ چینی ان پر نہیں بلکہ اس کردار یا موضوع پر کرنی چاہیے تھی۔ ’تاہم یہ ایک سچا واقعہ ہے، جہاں سے اس کا مرکزی خیال مستعار لیا گیا، یہ واقعہ پنجاب میں ہوا تھا اور پروفیسر پر جھوٹا الزام لگا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ الزام لگانے والے یہ نہیں دیکھتے کہ الزام کا اثر اس شخص اور اس کے خاندان پر کیسے پڑے گا، پروفیسر کا کردار الزام نہیں سہہ سکا اور اس نے خود کُشی کرلی۔

انہوں نے کہا کہ اس ڈرامے کے ذریعے ’می ٹو‘ تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ وہ خود اس کے حق میں ہیں کیونکہ کسی مرد یا عورت کو حق نہیں کہ وہ کسی کو بھی ہراساں کرے، اس کی سزا ہونی چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کوئی اس موومنٹ کو غلط استعمال تو نہیں کررہا؟ اسی لیے کسی کو سزا دینے سے پہلے تحقیق اور تصدیق کرلی جائے تو بہتر ہے۔

عفت عمر کے انٹرویو سے اٹھنے والے تنازعے پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں صرف اللہ اور اپنی اہلیہ کو جواب دہ ہیں اور وہ اس بارے میں کوئی وضاحت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام 18 ماہ پہلے ریکارڈ ہوا تھا اور ان کی مزاح سے پُر اور کچھ طنزیہ گفتگو کی عادت ہے، اگر کسی کو ان کا مذاق پسند نہیں تو یہ اس کا مسئلہ ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube