Wednesday, September 22, 2021  | 14 Safar, 1443

سال 2020میں الوداع کہنے والے پاکستانی ستارے

SAMAA | - Posted: Dec 24, 2020 | Last Updated: 9 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 24, 2020 | Last Updated: 9 months ago

کولاج: سماء ڈیجیٹل

سال 2020 اپنے دامن میں بیشتر تلخ یادیں سمیٹے رخصت ہونے کو ہے، رواں سال شوبزکئی معروف شخصیات ہمیں الوداع کرگئیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبے میں خوب نام کمایا۔

امان اللہ
چھ مارچ 2020 کو پاکستان کے معروف کامیڈین امان اللہ گردوں اورپھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا ہونے کے باعث طویل علالت کے بعد لاہور میں انتقال کرگئے۔ سال 1950میں پیدا ہونے والے امان اللہ کی عمر 70 سال تھی۔

امان اللہ نے بیشمار تھیٹرز پلے کے علاوہ مختلف نجی ٹی وی چینلز کے پرمزاح ٹاک شوز میں بھی شریک ہو کر اپنی منفرد پہچان بنائی۔ان کا شمار ملک کے بہترین کامیڈینز میں ہوتا تھا، اسی لیے امان اللہ کو کامیڈی کنگ بھی کہا جاتا تھا۔

امان اللہ کو ان کی خدمات کے صلے میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔

زارا عابد
کراچی سے تعلق رکھنے والی فیشن ماڈل زارا عابد 22 مئی کو افسوسناک حادثے میں چل بسیں جب لاہور سے کراچی آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 3803 جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ پر لینڈنگ سے چند لمحے قبل رہائشی علاقے میں گرکرتباہ ہوگئی تھی ۔حادثے میں عملے اورپائلٹ سمیت 97 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 2 مسافر معجزنہ طور پر بچ گئے تھے۔

زاراعابد تیزی سے اپنی پہچان بناتے ہوئے لکس اسٹائل ایوارڈز میں بہترین ماڈل کا ایوارٖڈ وصول کرچکی تھیں۔

انتقال کے بعد مئی میں زاراعابد کی پہلی مختصر فلم ” سکہ ” یوٹیوب پرریلیز کی گئی تھی ۔سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں اس فلم کے کم عمر ہدایتکار احمد صارم کا کہنا تھا کہ اس فلم کیلئے میرے پاس بجٹ نہیں تھا یہ میری پہلی فلم تھی تاہم زارا بجٹ نہ ہونے باوجود فلم میں کام کرنے کا فیصلہ کیا اور انہوں نے خود ہی فلم کے لیے اپنے ملبوسات کا انتظام کیا اور اسلام آباد سے کراچی اس فلم کی شوٹنگ کے لیے فرشتہ بن کر پہنچ گئیں۔

صارم کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ فلم کو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھیجنا تھا تاہم کرونا وائرس کے باعث وہ فیسٹیول منسوخ ہوگئے جس کے بعد فلم کو ریلیز بھی روک دی گئی تھی تاہم زارا کے انتقال کی خبر سن کر میں نے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کیلئے یہ فلم یوٹیوب پرریلیزکردی ۔

خدمات کے اعتراف میں رواں سال 19ویں لکس اسٹائل ایوارڈز میں زارا کو ماڈل آف دی ایئر(بعد ازمرگ) کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

صبیحہ خانم

جون 2020 میں ماضی کی معروف اداکارہ صبیحہ خانم امریکی ریاست ورجینیا میں انتقال کرگئیں۔ وہ گردوں سميت ديگر امراض ميں مبتلا تھيں

صبیحہ خانم 16 اکتوبر 1935 ميں پنجاب کے شہر گجرات ميں پیدا ہوئيں۔ 1950 میں فلم نگری ميں قدم رکھنے والی اداکارہ کوبہترين اداکاری پر تمغہ حسن کارکردگی اورپاکستان کے سب سے بڑے فلمی نگار ايوارڈ سے بھی نوازا گيا۔ ان کی مشہور فلموں میں 7لاکھ، چھوٹی بیگم، ناجی، حسرت ، دامن، سوال،وعدہ، ایاز، عشق لیلیٰ و دیگر شامل ہیں۔

طارق عزیز

جون کی 17 تاریخ کو ریڈیو، ٹیلی ویژن ، فلم ، صحافت، ادب اور سیاست کا معروف نام اور پاکستان میں گیم شو ” نیلام گھر” کاآغاز کرنے والے طارق عزیزچل بسے۔اٹھائیس اپریل 1936 کو جالندھر میں پیدا ہونے والے طارق عزیز کی عمر 84 سال تھی۔ وہ شوگر کے مرض ميں مبتلا تھے

طارق عزیزنے ابتدائی تعلیم ساہیوال میں حاصل کرنے کے بعد ریڈیو پاکستان لاہور سے کیرئیرکا آغاز کیا۔ 26نومبر 1964 میں پاکستان ٹیلی ویژن کے آغاز کے بعد سب سے پہلا میل اناؤنسر ہونے کا اعزاز طارق عزیز کے حصے میں ہی آیا۔

پاکستان کا مقبول ترین گیم شو” نیلام گھر” شروع کرنے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے۔ ریڈیو اور ٹی وی کے علاوہ انہوں نے بڑی اسکرین پربھی صلاحیتوں کے خوب جوہردکھائے۔ سال 1968سے 1988 تک 20 طارق عزیز نے 42 فلموں میں کام کیا۔

ان سب کے ساتھ ساتھ طارق عزیز سیاست میں بھی سرگرم رہے۔ سال 1997 سے 1999 تک ن لیگ کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی بھی رہے۔ پیپلز پارٹی سے شروعات کے بعد مسلم لیگ (ن) اورق لیگ سے بھی وابستگی رہی۔ ۔سال 1998 میں ن لیگ کے سپریم کورٹ پرہونے والے حملے میں وہ بھی شریک تھے۔

سال 1992 میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

Shafaullah Khan Rokhri

شفاء اللہ روکھڑی

اگست کی 28 تاریخ کو معروف سرائیکی گلوکار شفاء اللہ روکھڑی دل کا دورہ پڑنے کے باعث اسلام آباد میں چل بسے۔

شفا اللہ روکھڑی کے کریڈٹ پر بہت سے گیت ہیں تاہم “اج کالا جوڑا پا ساڈی فرمائش تے” سے انہیں ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔

ان کے میوزک البمز میں ’’ڈھولا‘‘، ’’پردیسی ڈھولا‘‘، ’’گلہ تیرا‘‘ اور دیگر شامل ہیں

فردوس بیگم

ں پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ فردوس بیگم 16 دسمبر کو 73 سال کی عمر میں لاہورمیں انتقال کرگئیں، وہ برین ہیمرج کے باعث 3 روز سے اسپتال میں داخل تھیں۔

اگست 1947 میں جنم لینے والی فردوس بیگم کا اصل نام پروین تھا۔ کیریئرکا آغاز 1963 میں فلم ” فانوس” سے کیا، انہوں نے پنجابی ، اردو ، پشتوزبان میں بننے والی 150 سے زائد فلموں میں کام کیا۔سال 1970 میں فلم “ہیررانجھا” میں اعجاز درانی کے مقابل ہیروئن کا کردار ادا کرنے والی فردوس بیگم کو اس کردار سے بےپناہ شہرت حاصل ہوئی اور ہیران کی پہچان بن گیا۔ بہترین اداکاری پرانہیں نگارایوارڈ سے نوازا گیا۔

فردوس بیگم کی متعدد فلموں میں ان پرملکہ ترنم نور جہاں کی آوازمیں گانے فلمائے گئے۔اداکارہ کی مشہور فلموں میں ہیر رانجھا، انسانیت، سودے دلاں دے ، ملنگی، آنسو، ضدی اور دیگرشامل ہیں

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube