Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

انکوائری میں میشا شفیع سمیت8ملزمان پرعلی ظفرکیخلاف مہم چلانےکاالزام

SAMAA | - Posted: Dec 16, 2020 | Last Updated: 9 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 16, 2020 | Last Updated: 9 months ago

کولاج: سماء ڈیجیٹل

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ہراسانی کیس میں گلوکارعلی ظفر کو سوشل میڈیا پربدنام کرنے پرگلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر 8 افراد کو قصور وار قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ سے کارروائی کی درخواست کردی۔

ایف آئی اے نے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد گزشتہ روز 15 دسمبر کو چالان مکمل کرکے پراسکیوشن کو جمع کروا دیا۔

چالان میں کہا گیا ہے کہ میشا شفیع سمیت دیگر 8 ملزمان نے علی ظفرکے خلاف سوشل میڈیا پرجنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے لیکن اس حوالے سے کسی قسم کے شواہد پیش نہ کرسکے۔ ان میں میشا شفیع، اداکارہ عفت عمر، علی گل پیر، ماہم جاوید، لینا غنی، فریحہ ایوب، سید فیضان رضا اور حسیم الزمان شامل ہیں۔

ایف آئی نےواضح کیا کہ علی ظفر نے حمنہ رضا نامی خاتون کی معافی قبول کرلی ہے اس لیے ان کے خلاف مزید کارروائی کی ضرورت نہیں رہی۔

علی ظفر نے فیس بک ، ٹوئٹر سمیت دیگرسوشل میڈیا پر اپنے خلاف مہم چلائے جانے کے بعدنومبر 2018 میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو شکایت درج کروائی تھی کہ میرے خلاف توہین اور دھمکی آمیز مواد پوسٹ کیا جارہا ہے، گلوکار کی جانب سے ساتھ ہی مذکورہ ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی تھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے منیجر کو ملنے الی دھمکیوں کے ثبوت بھی فراہم کیے تھے۔

شواہد پیش کرنے میں ناکامی پر ستمبر 2020 میں عدالت کے حکم پرتمام افراد کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے سیکشن (1) 20 کے تحت مقدمہ دائرکیا گیاتھا۔

پراسکیوشن کی 2 رکنی ٹیم ایف آئی اے کےسائبر کرائم چالان کا جائزہ لے گی۔

اپریل 2018 میں میشا شفیع نے ٹوئٹر پرعلی ظفرکیخلاف الزام عائد کیا تھا کہ وہ انہیں ایک سے زیادہ مواقع پرجسمانی طورپرہراساں کرچکے ہیں، جواب میں علی ظفرنے میشا کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائرکیاتھا۔

علی ظفرنے موقف اختیارکیا کہ میشا شفیع نے 19 اپریل 2018 کو اپنا ٹوئٹراکاونٹ میرے خلاف تحقیرآمیزجملے اورجھوٹے الزامات پوسٹ کرنے کے لئے استعمال کیا۔ ملزمان کو دفاع کے کئی مواقع ديے گئے ليکن وہ تسلی بخش جواب نہيں دے سکے۔ میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزام سے ہفتوں قبل کئی جعلی اکاؤنٹس کی جانب سے میرے خلاف مذموم مہم کا آغازکیا گیا۔

گلوکارنے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھاکہ میری ساکھ کو پہنچنے والے نقصان اورجھوٹے الزامات عائد کرنے پرمیشا شفیع ہرجانہ ادا کریں۔ علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف ایک ارب روپے کے ہتک عزت کا کیس بھی لاہور کی سیشن کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

دوسری جانب گلوکارہ میشا شفیع کی لیگل ٹیم کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ ایف آئی اے کے چالان سے متعلق خبروں کو بعض حلقے غلط تشریح کرکے میشا شفیع کے خلاف کے استعمال کررہے ہیں، یہ رپورٹنگ انتہائی گمراہ کن ہے کیونکہ کسی عدالت نے یہ فیصلہ نہیں دیا ہے۔

لیگل ٹیم کے مطابق یہ ایف آئی اے کی جانب سے کیے گئے انکشافات ہیں جو ہماری رائے میں غلط فہمی پر مبنی ہیں، ہمیں یقین ہے کہ میشا شفیع اور ایف آئی آر میں نامزد دیگر افراد کو متعلقہ عدالتی حکام اور عدالتیں قصوروار نہیں پائیں گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube