Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

شینوگئی:اسٹنٹ وومن سے بڑی اسکرین تک

SAMAA | - Posted: Nov 20, 2020 | Last Updated: 1 week ago
SAMAA |
Posted: Nov 20, 2020 | Last Updated: 1 week ago

لاہورموٹروے زیادتی کیس کے عوامی ردعمل پرفلم

لاہورموٹروے زیادتی کیس کے بعد پاکستانی معاشرے میں عورت کے تحفظ سے متعلق متضاد بیانات سامنے آئے، یہ تک کہا گیا کہ عورت اکیلے گھر سے باہرنکلی ہی کیوں؟ فلم "شینوگئی" ایسے افراد کیلئے ایک بہترین جواب ہے۔

سٹنٹ بائیکرمرینہ خان کیلئے شینو گئی بننے کا سفرآسان نہیں تھا، جسے بسوں اوررکشوں میں دھکے کھانے کے دوران ناہموارمعاشرتی رویوں نے یہ احساس دلایا کہ اپنے لیے خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔

گھروالوں سے چھپ کراسکوٹی خریدنے کے بعد ہیوی بائیک تک کا سفرطے کرنے اور پھر انسٹرکٹر بننے والی عام سی لڑکی کیسے بڑے پردے تک کیسے پہنچی؟ سماء ڈیجیٹل سے بات کرنے والی مرینہ کی زندگی کے سارے اتارچڑھاوسن کراس جملے پریقین ہوتا ہے کہ " اکیلی عورت ذمہ داری ہوتی ہے، موقع نہیں "۔

بچپن سے شوق رکھنے والی مرینہ نے 2017 میں قسطوں پر اسکوٹی لی اور خاندان کی شدید مخالفت کا سامنا کیا، لیکن جب یہ شوق ضرورت بنا تو پھرخود سے عہد کیا کہ 3 ماہ میں سیکھ کررہوں گی۔ بغیر کسی انسٹرکٹرکے سٹنٹ بائیکربننےوالی مرینہ کے مطابق اتنی چوٹیں لگیں لیکن کسی نے بتایا نہیں کہ یہ نہ کرو، ایسے کرو۔ 5 ماہ بعد ایک پراجیکٹ ملا جس میں 200 سی سی بائیک چلاتے ہوئے کراچی سے کشمیرجانا تھا، اعتماد بڑھا تو سوچا کہ اب دوسری لڑکیوں کو بھی بائیک چلانا سکھاوں گی۔

ناراض گھروالوں نے اس دوران بائیک بھی فروخت کردی لیکن کاغذات پاس تھے تو 30 ہزار دیکر واپس لےآئی۔

مرینہ نے بتایا کہ فلم کیلئے میرا نام مجھ سے بائیک سیکھنے والی ایک میک اپ آرٹسٹ نےدیا اورکہا کہ بائیک چلانی ہے، وہاں پہنچی توعلم ہوا کہ فیچرفلم کیلئے بلایا ہے۔ میں نے صاف بتا دیا کہ ایکٹنگ تومجھے نہیں آتی لیکن بائیک جتنی مرضی ہے چلوالیں۔

انہوں نے بتایا "مجھے نہیں پتہ تھا کہ کیا کرنا ہے لیکن جب اسکرپٹ یاد کیا تو احساس ہوا کہ اگر کرنا ہے تو اس کردار کو سمجھناپڑے گا" ۔ اداکاری کی باریکیاں سمجھانے کیلئے ڈائریکٹر اور دیگر نے مرینہ پرایک ماہ تک انتھک محنت کی اور بالآخر وہ کامیاب ہوئیں۔

لاہورموٹروے زیادتی کیس کے بعد عوامی رد عمل سے متاثر ہوکربنائی جانے والی اس تھرلر فلم میں مرینہ سید کےعلاوہ دیگر کاسٹ تھیٹرآرٹسٹس پرمشتمل ہے۔ فلم میں مرینہ نے ایک وی لاگرکا کردار ادا کیا ہے۔

بلوچستان کے خوبصورت قدرتی مقامات پر فلمائی جانے والی "شینوگئی" کے رائٹراورڈائریکٹر ابوعلیحہ ہیں جو اس سے قبل کتکشا اور تیوربنا چکے ہیں جبکہ ان کی دو فلمیں " ونس اپان آ ٹائم " اور" لاک ڈاون" ریلیزکی منتظر ہیں۔

فلم کا ٹائٹل پشتو زبان سے لیا گیا ہے جس کا مطلب ہے " سبر آنکھوں والی لڑکی "۔ فلم کو زیمیز پروڈکشنز اور میٹرو لائیو موویزنے پروڈیوس کیا ہے۔مرینہ کے علاوہ دیگرکاسٹ میں عائشہ فرازرند، کنورمدثر، ایازعلی اوربلاول حسین شامل ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube