Friday, March 5, 2021  | 20 Rajab, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

مصطفیٰ چوہدری کی ٹویٹ پرشان کا”طلاق دفتر”کھولنےکامشورہ

SAMAA | - Posted: Nov 6, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 6, 2020 | Last Updated: 4 months ago

پاکستان ڈرامہ انڈسٹری میں موضوع کی یکسانیت پراب صرف شائقین ہی نہیں خود اداکاروں نے بھی آوازیں اٹھانا شروع کردی ہیں۔

منفرداندازرکھنے والے اداکار ومیزبان مصطفیٰ چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں دلچسپ اندازمیں ڈراموں میں دکھائی جانے والی طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح پرتنقید کی جس کے جواب میں اداکار شان شاہد نے ایسے ڈرامے بنانے والوں کو ” طلاق دفتر” کھولنے کا مشورہ دے ڈالا۔

ٹوئٹرپرمصطفیٰ چوہدری نے نجی چینل کا نام لیتے ہوئے لکھا “یا اللہ، ہم ٹی وی کے روز کے 60 ڈراموں جس جس لڑکی کوطلاق ہونے والی ہے ان کے گھربچالے۔ آمین”۔

اس ٹویٹ پرتبصرے میں شان نے بھرپور تائید کرتے ہوئے لکھا “صحیح کہا، اب توان کو طلاق کادفتر بھی کھولنا چاہیے، اتنی پروموشن کے بعد”۔

شان کے علاوہ ٹوئٹرصارفین بھی رائے کا اظہارکرنے میں پیچھے نہیں رہے۔ ایک خاتون صارف نے دوسرے نجی چینل کی مثال دیتے ہوئے ڈراموں کی کہانیاں بھی گنوا دیں۔

ایک صارف نے معاشرے میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کو ان ڈراموں کے منفی اثرات کا شاخسانہ قرار دے دیا۔

خاتون صارف نے بھی موضوعات ایک سطرمیں گنوا کراپنے دل میں دبے غصے کوخوب نکالا۔

مصطفیٰ چوہدری کی جانب سے صرف ہم چینل کا نام لینے پران کی توجہ دیگرچینلز پرچلنے والے ڈراموں کی جانب بھی مبذول کروائی گئی۔

ایک صارف نے لگے ہاتھوں اپنے دل کی خواہش ہی بیان کرڈالی۔

ایک صارف نے مصطفیٰ چوہدری کو پُرسکون رہنے کا مشورہ دے دیا۔

شان کو اس سے قبل پاکستان ٹیلی ویژن سے تُرک ڈرامہ سیریل “ارطغرل” نشرکرنے کی مخالفت پرتنقید کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

حال ہی میں عرب نیوز کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں بھی ان کا کہا تھا کہ نجی چینلز پرپیش کیے جانےوالے پروگرامز کے مواد کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، وہ وہی کریں گے جو انہیں درست لگتا ہے لیکن سیٹلائٹ کے علاوہ بھی آپ کو ایک چینل دستیاب ہے اور وہ ہے پی ٹی وی۔ اگر پی ٹی وی وزیراعظم کی سوچ کے مطابق پروگرامزتیارکررہا ہے تو میں وہ دیکھنا چاہتا ہوں۔

شان شاہد نے پی ٹی آئی کو آخری امید قرار دے دیا

فحاشی سے متعلق سنسرشپ کے بارے میں اپنے خیالات بتاتے ہوئےاداکار نے کہا کہ اس بات کو تعین کوئی بھی نہیں کرسکتا کہ بے حیائی کیا ہے لیکن ایسی حد بندی ضرور ہونی چاہیے جسے کوئی کراس نہ کرسکے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube