Monday, October 25, 2021  | 18 Rabiulawal, 1443

سول ایوارڈ دینے کا معاملہ، علی ظفر کی وکیل کا ردعمل

SAMAA | - Posted: Aug 21, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Aug 21, 2020 | Last Updated: 1 year ago

گلوکار علی ظفر کی وکیل نے خواتین کے حقوق سے متعلق آواز اٹھانے والی مختلف تنظیموں کی جانب سے صدر مملکت اور وزیراعظم کو لکھے گئے خط کا جواب دے دیا۔

گزشتہ دنوں 14 اگست کو ‘یوم آزادی’ کے موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملکی اور غیر ملکی شخصیات کے لیے سول ایوارڈز کا اعلان کیا تھا، جنہیں 23 مارچ کو ‘یوم پاکستان’ کے موقع پر منعقد کی جانے والی تقریب میں ایوارڈز سے نوازا جائے گا ان شخصیات میں گلوکار علی ظفر کا نام بھی شامل ہے ۔

اس اعلان کے دو دن بعد سب سے پہلے اداکارہ عفت عمر نے سول ایوارڈز کی نامزدگی سے متعلق ایک تنقیدی ٹوئٹ کی تھی جس میں انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر لکھا تھا کہ صرف پاکستان میں یہ ممکن ہے کہ حکومت کی طرف سے مبینہ طور پر ہراسانی میں ملوث شخص کو ایوارڈ دیا جائے۔

بعدازاں 19 اگست کو عورت مارچ، عورت آزادی مارچ، ویمن ایکشن فورم اور تحریک نسواں کی جانب سے صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں علی ظفر کو سول ایوارڈ دینے سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس میں کہا گیا تھا کہ صدارتی دفتر کی جانب سے علی ظفر کو تمغہ حسن کارکردگی دینے کے فیصلے پر ہمیں شدید تشویش ہے کیونکہ علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد ہیں اور اس حوالے سے مقدمات تاحال جاری ہیں۔

گلوکار کی وکیل بیرسٹر عنبرین قریشی نے ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں عورت مارچ کی جانب سے علی ظفر کو تمغہ حسن کارکردگی دینے کے خلاف صدر مملکت کو لکھے گئے خط کا ردعمل جاری کیا۔

ردعمل میں کہا گیا کہ یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے لڑنے والی تنظیمیں دوسروں کے حقوق غصب کررہی ہیں اور بدنام کرنے کی مہم کا حصہ بن رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کی شکایت پنجاب محتسب کے بعد گورنر پنجاب اور یہاں تک کہ لاہور ہائی کورٹ بھی خارج کرچکی ہے اور سپریم کورٹ نے اب تک لاہور کی عدالت عالیہ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی اجازت نہیں دی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube