Wednesday, September 30, 2020  | 11 Safar, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

حلیمہ سلطان کوایمبیسڈربناناہمارےمنہ پرطمانچہ ہے،ژالےسرحدی

SAMAA | - Posted: Aug 6, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 6, 2020 | Last Updated: 2 months ago

یاسرحسین کے بعد اداکارہ ژالے سرحدی نے بھی ترک اداکارہ ایسرابالجیک کو پاکستانی برانڈ کی ایمبیسڈر بنانے کی شدید مخالفت کردی۔ ژالے کے مطابق ایساکرنا ہمارے منہ پرطمانچہ ہے۔

سوشل میڈیا پرژالے سرحدی کا ایک ویڈیو کلپ تیزی سےوائرل ہورہا ہے جس میں وہ پاکستان میں مقبولیت کے ریکارڈ قائم کرنے والے ترک ڈرامے “ارطغرل” کی ہیروئن ایسرابالجیک کو 2 پاکستانی کمپنیوں کا برانڈ ایمبیسڈربنانے پراپنی رائے کا اظہار کررہی ہیں۔

ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے ژالے کا کہنا ہے ” حلیمہ کو پاکستان میں کسی برانڈ کا ایمبیسڈر بناناہمارے منہ پرطمانچہ ہے، یہ حقیقتا ہمارے منہ پرطمانچہ ہے۔ ہم دوسرے ملک سے اسٹار لینے کے بجائے اپنے ملک میں کچھ ایسا تخلیق کیوں نہیں کرتے؟ ہم اس چیز سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟” ۔

ژالے نے یاسرحسین کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ میں یاسرحسین کو مکمل طورپرسپورٹ کروں گی۔

اس سے قبل یاسرحسین نے بھی اس معاملے پر نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا پاکستانی برانڈ کی ایمبیسڈر بھی یہیں سے ہونی چاہیے نہ کہ بھارت یا ترکی سے۔اداکار نےانسٹا اسٹوریزمیں لکھا تھا” کیا ماہرہ، صبا، سونیا، منال، ایمن، امر، زارا، ہانیہ، ثناء ، یمنیٰ ، ارمینا، سارہ ، حرا ، کوئی بھی اس قابل نہیں کہ پاکستانی برانڈ کی ایمبیسڈر بن سکے؟ پاکستانی اداکاروں کی حمایت کریں”۔

اس موقف پر شوبز ستاروں سمیت عوامی حلقوں سے بھی یاسرحسین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ایسرا بالجیک کو کیوموبائل کے بعد پاکستان میں ٹیلی کام سروس پروائیڈر جاز نے بھی اپنا برانڈ ایمبیسڈر مقررکیا ہے جبکہ پاکستان سپرلیگ میں پشاور زلمی کا برانڈ ایمبیسڈر بنائے جانے کی اطلاعات بھی سرگرم ہیں، اس حوالے سے فرنچائز کے مالک جاید آفریدی عندیہ دے چکے ہیں۔

ایک انٹرویو کے دوران اداکارہ نے بتایا تھا کہ وہ جلد 3 معروف پاکستانی برانڈز کے ساتھ کام کرنے والی ہیں۔ایسرا بالجیک پاکستانی عوام سے ملنے والی محبت کے جواب میں یہ بھی کہہ چکی ہیں کہ اگر کرونا کے باعث فضائی پابندیاں نہ ہوتیں تو وہ اب تک کئی بار پاکستان آ چکی ہوتیں۔

ڈرامہ ” ارطغرل ” وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پرپاکستان میں یکم رمضان المبارک سے سرکاری ٹی وی پراردو ڈبنگ کے ساتھ نشر کیا جا رہا ہے۔ڈرامے میں 13ویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے قیام سے قبل اسلامی فتوحات کا سلسلہ دکھایا گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

  1. حسین سحر  August 7, 2020 11:52 pm/ Reply

    ابھی اور بھی تھپڑ پڑے گا

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube