Monday, September 28, 2020  | 9 Safar, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

فلم ‘زندگی تماشا’ پر تاحیات پابندی لگانے کیلئے درخواست دائر

SAMAA | - Posted: Jul 16, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 16, 2020 | Last Updated: 2 months ago

ہدایتکارسرمد کھوسٹ کی آنے والی فلم ‘زندگی تماشا’ پر تاحیات پابندی لگانے کے لیے لاہور کی مقامی عدالت میں درخواست دائر کردی گئی ہے ۔

فلم ‘زندگی تماشا’ کے حوالے گزشتہ دنوں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت دی تھی۔

سنیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ سینیٹ کی ایچ آر کمیٹی نے فلم “زندہ تماشا” کی نمائش کی اجازت دینے سے متعلق سنسر بورڈ کے فیصلے سے اتفاق کیا ہے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ ہومن رائٹس کمیٹی نے فلم زندگی تماشا دیکھی اور تمام اراکین اس بات پر متفق ہوئے کہ اس فلم میں کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ہے جس کی بنیاد پر اس فلم پر پابندی لگائی جائے ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم چیئرمین سنسر بورڈ کو اجازت دی ہے کہ آپ کا فیصلہ درست تھا انہوں نے دو مرتبہ فلم کو نمائش کی اجازت دی تاہم ہم چیئرمین سنسر بورڈ کے فیصلے سے متفق ہیں جیسے ہی حالات بہتر ہوتے ہیں اور سنیما گھر کھل جائیں اس فلم کو نمائش کے لیے پیش کردیا جائے۔

سینیٹ کمیٹی کی جانب سے فلم کو ریلیز کی اجازت دیے جانے کے بعد انجمن ماہریہ نصیریہ نامی تنظیم نے فلم پر تاحیات پابندی کے لیے درخواست دائر کردی۔

تنظیم نے لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں درخواست دائر کی جہاں ایڈیشنل سیشن جج وسیم احمد نے مختصر سماعت کی، اس دوران فلم ساز سرمد کھوسٹ کے وکیل نے وکالت نامہ جمع کروایا۔

تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ فلم میں مذہبی فرقے کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اگر فلم ریلیز ہوئی تو معاشرے میں ہنگامہ برپا ہوجائے گا۔

مزید برآں درخواست میں عدالت سے زندگی تماشا پر تاحیات پابندی عائد کرنے کی استدعا بھی کی گئی۔

بعد ازاں عدالت نے فلم ساز سرمد کھوسٹ سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت کو 27 جولائی تک ملتوی کردیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube