Sunday, September 20, 2020  | 1 Safar, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

پاکستان کی پنجابی فلموں کو زوال کیوں آیا؟

SAMAA | - Posted: Jul 7, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 7, 2020 | Last Updated: 2 months ago

پاکستان سنیما کی تاریخ میں ایک ایسا بھی دور دیکھا گیا جب زیادہ تر پاکستانی فلمیں پنجابی زبان میں بنائی جاتی تھیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب ٹی وی کیبل ہمارے گھروں تک پہنچا تھا اوراس نے فلمی شائقین کو تقسیم کردیا۔لوگوں کارجحان بالی ووڈ فلموں کی جانب بڑھتا چلا گیا اور اس دوران پاکستانی فلموں کےمعیاراور مقبولیت میں کمی سامنے آنا شروع ہوئی اور کہانیوں کی سمت سے زیادہ گنڈاسے کو ترجیح دی گئی۔

یہ وہ محرکات تھے جس کے باعث جو مخصوص طبقہ پنجابی فلمیں دیکھنا چاہتا تھا وہ بھی آہستہ آہستہ دور ہوتا گیا، پرانے موضوعات پر بنائی جانے والی فلموں کی وجہ سے لوگوں کی دلچسپی ختم ہوگئی اور فلمی شائقین کی توجہ سنیما کے بجائے گھروں پر رہ کر بالی ووڈ فلمیں دیکھنے کی جانب مرکوز ہوگئی۔

سال 2007 میں جب پاکستانی فلم انڈسٹری زوال کی جانب تھی اسی میں شعیب منصور کی ہدایتکاری میں بنائی جانے والی پاکستانی فلم خدا کے لیے پیش کی جس نے بے حد پزیرائی حاصل کی پھر 2013 میں اداکار شان کی ہی وار ریلیز کی گئی یہ وہی شان تھے جو پنجابی فلموں میں مرکزی کردار ادا کیا کرتے تھے تاہم ان کی فلم وار نے پاکستان سینما میں ایک نئی روح پھونکی فلم انڈسٹری سے وابستہ لوگوں نے اسے خوش آئند قرار دیا جس کے بعد پنجابی فلموں کا زوال شروع ہوا ۔

گزشتہ برس ہدایتکار سید نور نے پنجابی فلم باجرے دی راکھی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ “میں پنجاب کی فلم بنارہا ہوں میرا اصل کام پنجابی فلم کو واپس لانا ہے کیونکہ شائقین اچھی پنجابی فلم کے منتظر ہیں”۔

سید نور پاکستانی فلم انڈسٹری میں تخلیقی کام کرنے کے حوالے سے منفرد پہچان رکھتے ہیں ان کی ڈائریکشن میں بنائی گئی فلمیں بہت مشہور ہوئیں جن میں چوڑیاں، سرگم، دیوانے تیرے پیار کے، مہندی والے ہتھ سمیت دیگر شامل ہیں۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے سید نور کا کہنا تھا کہ فلم باجرے دی راکھی تقریباً مکمل ہوگئی ہے تھوڑی سی شوٹنگ باقی ہے جو بنکاک میں ہونا باقی ہے ، بڑے عرصے بعد بڑی محنت سے یہ فلم بنائی ہے اور اس لیے بنائی ہے کہ کافی عرصے سے لوگ پنجابی فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں لیکن کرونا کے بعد سے
حالات مختلف ہیں تاہم حالات بہتر ہوتے ہی فلم ریلیز کریں گے ۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے بڑی بیلنس فلم بنائی ہے بہت زیادہ پیسہ لگایا ہے، فلم کی کاسٹ میں صائمہ نور، مصطفیٰ قریشی،راشد محمود،اچھی خان،شفقت چیمہ،نغمہ بیگم،صائمہ سلیم،تبسم خان،آغا ماجد،سلیم البیلا سمیت دیگر شامل ہیں، فلم کے ذریعے سید نور دو نئے چہرے بھی انڈسٹری میں متعارف کرا رہے ہیں جن میں پاکستان کی مقبول ترین ٹک ٹاک اسٹار جنت مرزا اور عبداللہ شامل ہیں۔

پنجابی فلموں کے حوالے سے سید نور کا کہناتھا کہ دنیا بھر میں ہر 10 سال کے بعد فلم انڈسٹری کا مزاج تبدیل ہوتا ہے پنجابی فلم پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی نمائندگی کرتی ہے تاہم بدقسمتی سے جدید سنیما آنے کے بعد لوگوں نے وہاں بالی ووڈ فلمیں اور پاکستانی نئی فلمیں دیکھنا شروع کیں اور پنجابی فلموں کی طرف دھیان نہیں دیا۔

سید نور نے ہدایتکار بلال لاشاری کی مولا جٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلال کا ایک بڑی پنجابی بنانے کا اعلان قابل تعریف تھا اب میں بھی پنجابی فلم بنارہا ہوں لیکن اب جو ہم پنجابی فلم بنارہے ہیں وہ اردو فلموں کے معیار کی ہے ہم نے اپنی بھرپور کوشش کی کہ فلم میں پاکستانی ثقافت کی عکاسی ہو۔

پنجابی فلموں کی تاریخ کوئی نئی نہیں ہے 1949 میں ہدایت کار نذیر احمد کی پہلی پاکستانی فلم پھیرے ریلیز کی گئی ،فلم ’’پھیرے‘‘ نے پنجابی باکس آفس کی بنیاد رکھی۔

لاہور میں مقیم سماء ٹی وی کے انٹرٹیمنٹ رپورٹر محمد قربان نے اس حوالے سے بتایا کہ اب پنجابی فلمیں بننا ہی بند ہوگئی ہیں چند ایک لوگ فلمیں بناتے ہیں وہ بھی عید کے عید ریلیز کی جاتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مقامی فلموں کا معیار ناقص ہوگیا ہےجس کے باعث صرف مخصوص لوگ ہی مقامی سینما کا رُخ کرتے ہیں ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جو ہدایتکار پنجابی فلمیں بنارہے ہیں وہ جدید ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر واقف نہیں فلموں کی کہانی بھی وہی پرانی چلی آرہی ہے جس کے باعث یہ صورتحال پیش آئی ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سب سے زیادہ سنیما ہیں اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں فلم دیکھنے والوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے ۔

پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین آربیٹیشن اور فلم ڈسٹڑبیوٹر اعجاز کامران نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ پنجابی فلمیں صرف پرانے سنیما میں چلتی ہیں تاہم اب پرانے سنیما والوں نے بھی ہدایتکاروں کے ساتھ زیادتی کرنا شروع کردی ہے پہلے سنیما مالکان 30 فیصد رقم وصول کرتے ہیں لیکن اب وہ 70 فیصد کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ 50 فیصد کا وعدہ کرکے رقم دینے میں کئی سال لگاتے ہیں زیادہ تر سنیما ٹھیکے پر چل رہے ہیں جبکہ کچھ سنیما مالکان تو ڈیفالٹر ہوکر بھاگ گئے ہیں ۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube