Monday, August 10, 2020  | 19 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

سپریم کورٹ کےجج نےمیشاشفیع کی درخواست کی سماعت سےمعذرت کرلی

SAMAA | - Posted: Jul 6, 2020 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Jul 6, 2020 | Last Updated: 1 month ago

سپریم کورٹ کے جسٹس یحییٰ آفریدی نے جنسی ہراسانی کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف میشا شفیع کی دائرکردہ درخواست کی سماعت سے معذرت کرلی۔

آج 2رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کا آغازکیا تو جسٹس یحییٰ آفریدی نے سماعت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی وجوہات کی بناء پرکیس نہیں سن سکتا، جس کے بعد بینچ کی ازسرنو تشکیل کیلئے کیس چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوادیا گیا۔

میشا شفیع نے لاہورہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

لاہورہائی کورٹ نے 11 اکتوبر 2019 کو میشا شفیع کیخلاف فیصلہ دیتے ہوئے گورنرپنجاب اور خاتون محتسب کے فیصلوں کو برقراررکھا تھا۔

مئی 2018 میں خاتون محتسب نے مئی اورجولائی میں گورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے میشا شفیع کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے ان کی درخواست کو ناقابل قبول قراردیا تھا۔

خاتون محتسب نے قرار دیا تھا کہ ملازمت نہ ہونے پر میشاء شفیع حق دعویٰ نہیں رکھتیں جس کے بعد گورنر پنجاب نے بھی اس فیصلے کیخلاف گلوکارہ کی درخواست پر قرار دیا کہ محتسب نے تکنیکی بنیادوں پر درخواست مسترد کی کیونکہ فریقین کے درمیان مالک اورملازم کارشتہ نہیں ہے، اس لیے
معاملے کی شنوائی ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔

بعد ازاں میشا نے لاہور ہائیکورٹ نے رجوع کیا تھا جہاں گورنرپنجاب کا فیصلہ برقراررکھتےہوئےکیس خارج کردیا گیا تھا ۔

گلوکار علی ظفر اورمیشاشفیع کا تنازع اس وقت سامنے آیا جب میشا نے ایک ٹویٹ کے ذریعے علی پرجنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا، جس کے بعد لفظی جنگ کے بعد اپریل 2018 میں علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف شہرت کو نقصان پہنچانے پر ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ اس دعویٰ پر ایڈیشنل سیشن جج شکیل احمد نے سماعت کی تاہم میشا شفیع کی جانب سے جج پرجانبداری کا الزام عائد کیےجانے کے بعد دعویٰ دوسری عدالت میں منتقل کر دیا گیاتھا۔

علی ظفر نے میشا کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات کی تردید کر تے ہوئےکہا تھا کہ الزام کا جواب الزام سے نہیں دوں گا بلکہ میشا کیخلاف عدالت جاؤں گا۔ گلوکارنے میشا شفیع پر 100 کروڑ روپے ہرجانے کا مقدمہ دائرکررکھا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube