Sunday, September 20, 2020  | 1 Safar, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

فقیرانہ انداز کیساتھ صوفیانہ کلام پیش کرنے والے الن فقیر

SAMAA | - Posted: Jul 4, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 4, 2020 | Last Updated: 3 months ago

شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار سے پاکستان ٹیلی وژن تک سفر طے کرنے والے پاکستان کے معروف لوک گلوکار الن فقیر کی20 ویں برسی آج منائی جارہی ہے، صوفیانہ کلام میں جداگانہ انداز رکھنے والے گلوکار الن فقیر نے صوفیانہ کلام گا کر ملک گیرشہرت حاصل کی۔

وادی مہران کے ضلع دادو میں 1932 میں پیدا ہونے والے علی بخش عرف الن فقیر کو صوفی گلوکاری میں ملکہ حاصل تھا، اپنے مخصوص انداز اور آواز کی بدولت وہ آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں ان کے مقبول گیت کانوں میں رس گھولتے ہیں۔

الن فقیر نے اپنے فنی سفر کا آغاز شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری کے ذریعے حیدر آباد ریڈیو سے کیا  ۔

 الن فقیر نے سندھی، پنجابی، اردو، سرائیکی اور دوسری بہت سی زبانوں میں گانے اور صوفیانہ راگ گائے لیکن محمد علی شہکی کے ساتھ گایا جانے والا نغمہ تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا الن فقیر کی فنی شہرت میں اضافے کا باعث بنا۔

الن فقیر کی طبعیت شروع سی ہی صوفیانہ تھی سونے پر سہاگا قدرت نے انہیں خوبصورت آوازسے نواز رکھا تھا، ان کی گلوکاری کا انداز منفرد اور اچھوتا تھا۔

الن فقیر کی گائیکی نے فلسفیانہ عشق الٰہی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی، انہوں نے روایتی لوک گائیکی کو ایک نیا انداز بخشا۔

الن فقیرکو انیس سو اسی میں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، اس کے علاوہ شاہ لطیف ایوارڈ، شہباز ایوارڈ اور کندھ کوٹ ایوارڈز بھی ملے۔

لوک گلوکاری کا یہ چمکتا ستارہ 4 جولائی سن 2000 کو اس جہان فانی سے کوچ کر گیا مگر وہ آج بھی اپنے چاہنے والے کے دلوں میں زندہ ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube