Wednesday, September 22, 2021  | 14 Safar, 1443

طارق عزیزکےمعیارتک کوئی نہ پہنچ سکا

SAMAA | - Posted: Jun 19, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Jun 19, 2020 | Last Updated: 1 year ago

ابتداء ہے رب جلیل کے با برکت نام سے جو دلوں کےبھید خوب جانتا ہے، کسی نے رعب دار آوازمیں کہا۔ کچھ تھا اس آواز میں، کچھ ایسا کہ میں پلٹ کر دیکھنے پر مجبور ہوگیا۔

میں نے سر اٹھاکر ٹی وی کی جانب دیکھا۔ اس وقت ہمارے گھر میں 14 انچ کا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوا کرتا تھا جس پر ایک نیلے رنگ کا پلاسٹک کا کور تھا۔ جس ڈیلرنے ہماری والدہ کو ٹی وی بیچا تھا اس نے انھیں یقین دلایا تھا کہ یہ کور ان کے بچوں کی آنکھوں کو ٹی وی کی مضر شعاعوں سے محفوظ رکھے گا، شاید یہی وجہ تھی کہ ہمیں وہ کور اتارنے کی اجازت نہ تھی۔

اس آواز کا مالک ایک بادشاہ جیسا دکھائی دیتا تھا جس کے سر پر بالوں کا ایک تاج تھا اور وہ کلف لگی قمیض میں ملبوس تھا۔ اس کا لہجہ اور ابتدائی الفاظ کا چناؤ پاکستان ٹیلیوژن کے اس قسم کے پروگرام کے شایان شان تھا ۔

اس وقت میری عمر10 برس تھی۔ اس عمر میں مجھے لگا کہ یہ میزبان سب کچھ جانتے ہیں ۔

ان کا مخصوص انداز میں کہنا “دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں آپکو فرزانہ امین ، نغمانہ سمیع اور طارق عزیز کا سلام پہنچے”۔
آج ان کی موت کی خبر سننے کےبعد میں یوٹیوب پر ان کا پرانا ویڈیو کلپ دیکھنے لگا تو حیرت زدہ رہ گیا جو شاید میں 10 برس کی عمر میں نہیں سمجھ پایا تھا ۔آج کے کتنے گیم شو میں میزبان اپنا نام لینے سے پہلے خواتین کا نام یا اپنے ساتھی میزبانوں کا تعارف کروائیں گے؟۔

جب میں نے تقریباً 20 سال قبل پہلی بار طارق عزیز کو دیکھا تھا تواس وقت پی ٹی وی واحد چینل ہوا کرتا تھا۔ یقیناً ان دنوں ہم بچوں کے تفریح کے لیے زیادہ کچھ نہیں تھا سوائے مستنصر حسین تارڑ کے مارننگ شو کےجس میں وہ بچوں سے براہ راست مخاطب ہوتے تھے اور ہمارے اسکول جانے سے قبل صبح 7:30 بجے پانچ منٹ یا اس سے بھی کم وقت کیلئے کارٹون ووڈی ووڈ پییکر یا پنک پینتھر دکھاتے تھا۔

طارق عزیز کے شونیلام گھرکے مختلف حصے ہوا کرتے تھے جیسے سوال و جواب کے مقابلے، کالج کی ٹیموں کے درمیان تقریری مقابلہ اور مقابلہ بازی ۔ طارق عزیز اکثرلوگوں کو بیگ میں مخلتف چیزیں  جیسے کٹلری ، انکا نکاح نامہ ، ٹرین کے ٹکٹ رکھنے پر بھی انعامات دیتے تھے، کبھی وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ کچن میں استعمال ہونے والی اشیاء یا سبزیوں کے مختلف نام بتائیں اور ہرصحیح جواب پر 100 روپے انعام میں دیے جاتے۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ کون جیتتا ہے کیوںکہ اکثر دیکھنے والوں کی اصل توجہ سوال وجواب سے زیادہ طارق صاحب کے اندازبیان پہ ہوتی تھی۔ سوال پوچھنے سے پہلے وہ انعام بتاتے تھے اور یہ بھی بتاتے تھے یہ سوال کس کمپنی کے تعاون سے کیا جارہا ہے ۔جب مقابلہ میں حصہ لینے والاصحیح جواب دیتا تھا تو بجائے جیتنے والے کا نام پکارنےکے پہلے وہ جواب دہراتے اور پھر وہ باآواز بلند کہتے ” یہ واٹر کولر آپ کا ہوا “، اور یہ انداز ان کو شہرت کی بلندیوں پر لے گیا ۔

میں جب شودیکھنے بیٹھتا توہر سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا تھا تاکہ اپنی معلومات کا امتحان لیا جاسکے، یہ تب تک چلتا رہا جب تک ٹی وی کیبل کراچی نہیں پہنچا تھا جس کے بعد ہم نے پی ٹی وی کو چھوڑ کر سونی پرسی آئی ڈی اور زی ہارر شو دیکھنا شروع ہوگئے۔ جب ہمارے والدین گھر پر نہیں ہوتے تھے تو اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم کبھی کبھی چینل وی اور ایم ٹی وی بھی دیکھ لیا کرتے تھے۔

پاکستان میں جب نجی ٹی وی چینلزآئےاور ان پر گیم شوز کا آغاز ہوا تومجھے اندازہ ہوا تھا کہ طارق عزیز نے تقریبا 4 دہائیوں سے کتنے باوقار طریقےسے نیلام گھر کا انعقاد کیا تھا۔آج کل کے گیم شو میں سامعین کے ساتھ عزت کے ساتھ برتاؤ نہیں کیا جاتا ہے حتیٰ کہ ان کے ساتھ مذاق کرنے کے بجائے ان کا مذاق بنایا جاتا ہے۔ شاید اس کی بدترین مثال یہ تھی کہ ایک میزبان نے شرکاء میں سے ایک کو زبردستی اس طرح آم کھانے پر مجبور کیا کہ وہ اس حلق تک چلا گیا اور وہاں بیٹھے دیگر شرکاء کی خوشی دیدنی تھی ۔

طارق عزیز نے جس دور میں یہ مقام حاصل کیا تھا وہ دور شاید اب گزر چکا ہے، وہ پاکستانی گیم شو کے کامیاب ترین میزبان تھے اور جس طرح کا معیار انہوں نے ترتیب دیا تھا آج تک کوئی بھی اس معیار پر نہیں پہنچ سکا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube