Saturday, October 16, 2021  | 9 Rabiulawal, 1443

دیکھتی آنکھوں،سنتےکانوں کوسلام پہنچانےوالےطارق عزیزچل بسے

SAMAA | - Posted: Jun 17, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Jun 17, 2020 | Last Updated: 1 year ago

ریڈیو، ٹیلی ویژن ، فلم ، صحافت، ادب اور سیاست کا معروف نام اور پاکستان میں گیم شو “نیلام گھر” کاآغاز کرنے والے طارق عزیز انتقال کرگئے۔

اٹھائیس اپریل 1936 کو جالندھر میں پیدا ہونے والے طارق عزیز کی عمر 84 سال تھی۔ وہ شوگر کے مرض ميں مبتلا تھے ، آج صبح طبيعت خراب ہونے پراہل خانہ اسپتال منتقل کررہے تھے کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔

سال 1947 میں والدین نے پاکستان ہجرت کی ،طارق عزیزنے ابتدائی تعلیم ساہیوال میں حاصل کرنے کے بعد ریڈیو پاکستان لاہور سے کیرئیرکا آغاز کیا۔ 26نومبر 1964 میں پاکستان ٹیلی ویژن کے آغاز کے بعد سب سے پہلا میل اناؤنسر ہونے کا اعزاز طارق عزیز کے حصے میں ہی آیا۔ انہیں پی ٹی وی کے افتتاح کے موقع پر تعارفی اعلان کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔میزبانی میں طارق عزیز کاساتھ کنول نصیر نے دیا تھا۔

پی ٹی وی کے ایک پروفائل کے مطابق ، پہلے دن کی ٹرانسمیشن میں اشفاق احمد کی میزبانی میں ایک کوئز شو، قوی خان اور مہناز رفیع کے ایک طویل دورانیے کے ڈرامے اور طفیل نیازی کے ایک گانے پرمشتمل تھی۔

پاکستان کا مقبول ترین گیم شو ” نیلام گھر” شروع کرنے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے جسے1975 میں شروع کیے جانے کے بعد برسوں جاری رکھا گیا اور پھر دوبارہ شروع کیا گیا ۔ اسی سے انہیں ملک گیرشہرت حاصل ہوئی، دوبارہ آن ائر کرنے پر پروگرام کا نام “طارق عزیز شو” (1997) اور پھر “بزم طارق عزیز” (2006) رکھا گیا۔

نیلام گھر سے ان کا ایک منفردجملہ ” دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام پہنچے “انتہائی مقبول ہوا۔ ایک انٹرویو کے دوران اس جملے کا پس منظربتاتے ہوئے طارق عزیز کا کہنا تھا کہ میں روایتی سلام اور کسی چٹکلے سے آغاز کرتا تھا، ایک دن کسی نابینا لڑکے کا خط ملا جس میں اس نے لکھا تھا کہ میں پورا پروگرام دیکھتا ہوں لیکن آپ مجھے سلام ہی نہیں کرتے جس پریہ فقرہ ذہن میں آیا۔

ان کی پہچان بننے والا “نیلام گھر” پاکستان کا پہلاکوئزشوتھا جسے ناظرین کی بہت بڑی تعداد دیکھتی تھی۔ شوکافارمیٹ بھی سادہ تھا، شرکاء میں سے کسی کو منتخب کرکے مختلف سوالات پر انعامات دیے جاتے تھے۔ان کا ایک جملہ “یہ واٹرکولرآپ کا ہوا” آج بھی زبان زدعام ہے جسے پرمزاح انداز میں بولا جاتا ہے۔

ہمہ جہت طارق عزیز کا فنی سفر ریڈیو اور ٹی وی تک ہی محدود نہیں، انہوں نے بڑی اسکرین پربھی صلاحیتوں کے خوب جوہردکھائے۔سال 1968سے 1988 تک 20 سال کے عرصہ میں طارق عزیز نے 42 فلموں میں کام کیا , ان کی 33 فلمیں اردو اور باقی پنجابی زبان میں تھیں۔انسانیت اور ہار گیا انسان ان کی سپر ہٹ فلمیں تھیں۔

ان سب کے ساتھ ساتھ طارق عزیز سیاست میں بھی سرگرم رہے۔ سال 1997 سے 1999 تک ن لیگ کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی بھی رہے۔ پیپلز پارٹی سے شروعات کے بعد مسلم لیگ (ن) اورق لیگ سے بھی وابستگی رہی۔ ۔سال 1998 میں ن لیگ کے سپریم کورٹ پرہونے والے حملے میں وہ بھی شریک تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ میری آواز کی انفرادیت میرے رب کی دین ہے ۔ سال 1992 میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

طارق عزیز کے انتقال پروزیراعظم عمران خان نے گہرے دکھ کااظہار کرتے ہوئے فیملی کے ساتھ تعزیت کی۔

 

معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پر طارق عزیز کو سراہتے ہوئے ٹویٹس کیں۔

اس قدر تنوع کے باوجود طارق عزیز کا ماننا تھا کہ “میری پیاس زیادہ تھی لیکن مجھے چشمے کم ملے “۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube