Sunday, September 20, 2020  | 1 Safar, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

پشتو سنیما اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے

SAMAA | - Posted: Jun 4, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 4, 2020 | Last Updated: 4 months ago

ایک زمانے میں پاکستان میں اردو فلموں سے زیادہ بزنس پنجابی فلمیں کرتی تھیں ، اردو فلموں کی جگہ سنیما گھروں میں علاقائی زبانوں یعنی پنجابی اور پشتو میں فلمیں دکھائی جاتی تھیں لیکن پھر ایک ایسا وقت آیا کہ فلم بینوں نے علاقائی زبانوں میں بننے والی مقامی فلموں کے بجائے بھارتی فلمیں دیکھنے کو ترجیح دی ۔

ٹی وی، فلم سمیت دیگر فورمز پر گذشتہ 30 سال سے کام کرنے والے پشتو فلموں کے اداکار ارشد حسین نے سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پشتو فلموں کے ڈسٹربیوٹرز ، ہدایتکاروں اور پروڈیوسر کی وجہ سے پشتو سنیما اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے کیونکہ وہ ایک کہانی کو پچھلے چالیس برسوں سے چلا رہے ہیں ۔

ارشد حسین کے مطابق پشتو فلم صرف عید تک محدود ہوگئی ہیں اور دیکھنے والوں کی تعداد بھی صرف ایک فیصد رہ گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخواہ میں سنسر بورڈ نہیں ہے اگر کوئی پشتو فلم ریلیزکرنا ہو تو اس کیلئے اسلام آباد میں قائم وفاقی سنسر بورڈ سے منظوری حاصل کرنا ہوتی ہے جبکہ سندھ اور پنجاب کا اپنا سنسر بورڈ ہے ،سال 2018 میں 18 ویں ترمیم کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ کے پی کے میں سنسر بورڈ بنائیں گے لیکن تاحال اس پر کوئی کام نہیں کیا گیا، اس سنسر بورڈ میں بطور ممبر مجھے بھی نامزد کیا گیا تھا۔

ان کا کہناتھا کہ جب یہاں سنسر بورڈ کا قیام عمل میں آجائے گا تو سنسر بورڈ کے قوانین کے مطابق ایک بھی پشتو فلم نہیں لگے گی کیونکہ ابھی ریلیز ہونے والی پشتو فلموں میں تشدد ، فحاشی اور سستی شہرت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ۔

وائس آف امریکا کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ساٹھ کی دہائی میں کل سات سو پچاس سنیما تھے جن میں سے صرف چار سو پنجاب میں تھے اور ان چار سو میں سے بھی بیاسی سینما گھر لاہور میں تھے تاہم پنجاب میں تو ابھی سنیما گھر موجود ہیں لیکن گزشتہ سالوں میں دہشتگردی کے باعث خیبرپختونخوا میں 90 فیصد سنیما مسمار ہوچکے ہیں۔،

ارشد حسین نے بتایا کہ کچھ عرصے قبل ایک دوست فلم دکھانے سنیما لے کر گیا اس فلم کے ہدایتکار نے مجھے کہا کہ میں نے ایک مختلف فلم بنائی ہے تو میں فلم دیکھنے کا فیصلہ کیا تاہم جب میں سنیما گیا تو وہاں صرف 34 افراد فلم دیکھ رہے تھے، پشتو فلموں کا بجٹ 70 سے 80 لاکھ کے قریب آگیا ہے لیکن وہ بھی پورا نہیں ہوتا سوائے ایک گروپ کے جن کا اپنا سنیما ہے اور ان کا اپنا ہیرو ہے اور فلم میں استعمال ہونے والا تکنیکی سامان بھی ان کا اپنا ہے اس لیے وہ فلمیں بنارہے ہیں ۔

کسی بھی ملک کی وحدت کیلئے علاقائی زبانوں اور اس کے کلچر کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے، فلموں کے ذریعے اپنی ثقافت کو دنیا کے سامنے آسان انداز میں پیش کیا جاتا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس 32 لوک کہانیاں ہیں لیکن حالیہ پشتو فلموں میں نہ ہماری ثقافت کی ترجمانی ہوتی اور نہ ہدایتکار اچھی فلمیں بنارہے ہیں، فلم کا مقصد فیملی انٹرٹینمنٹ ہو اور اس میں آپ کی ثقافت کو اجاگر کیا جائے کیوں کہ آپکی سفیر ہوتی ہے جس سے آپ اپنے ثقافت کو برآمد کرتے ہیں ہماری ثقافت میں بڑی کہانیاں ہیں، یہاں پروڈیوسرز اور ڈسٹربیوٹرز کی جانب سے رقص اور تشدد کو فلم میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ کچھ سنیما کا حال ایسا ہے کہ جہاں فلموں کے درمیان فحاش ویڈیوز چلائی جاتی ہیں اور مخنس افراد کو بلا کر براہ راست رقص دکھایا جاتاہے، سنیما حال میں کھلے عام چرس سمیت دیگر منشیات کا استعمال ہورہا ہوتا ہے ۔

مقامی لوگوں کے مطابق بھی پشتو فلمیں ان کے کلچر یا ثقافت کی عکاس نہیں اور اس کے باعث پشتو فلمیں دیکھنے کے لئے سینما میں خواتین کہیں نظر نہیں آتیں، لوگوں کا یہی ماننا ہے کہ یہ فلمیں خاندان کے ساتھ دیکھنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔

ارشد حسین نے کہا کہ پہلی پشتو فلم 1954 میں فلم ریلیز ہوئی تھی، جس میں یوسف خان اور شیر بانو نے مرکزی کردار ادا کیا تھا اس کی سادہ سی کہانی تھی نہ اس میں کوئی تشدد نہ فحاشی ہوتی تھی اور فیملی جا کردیکھتی تھی تاہم 1985 کے بعد فلموں میں فحاشی کا عنصر شامل کیا گیا ۔ آج کل بنے والی فلمیں کلاشنکوف سے شروع ہوتی ہیں اور کلاشنکوف پر ختم ہوتی ہیں جس سے دیکھنے والے کو یہ پیغام ملتا ہے کہ پٹھان ایسے ہی ہوتے ہیں جبکہ پٹھان ایسے نہیں ہوتے ہمارے حجرے میں رباب رکھا ہوتا مٹکا ہوتا بندوق بھی ہمارے دفاع کیلئے ہوتی ہے کیونکہ ہم پُرتشدد لوگ نہیں ہیں ۔

پشتو اداکار بھی مالی مشکلات کا شکار ہیں پاکستان کے واحد پشتو چینل کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 2020 میں بھی خیبر چینل مرکزی اداکاروں کو ماہانہ صرف 15 ہزار روپے دیتا ہے دوسری جانب گزشتہ 12 سال سے پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان بھی بند ہے وہاں کوئی پروڈکشن نہیں ہورہی ہے ۔

جبکہ فلم میں کام کرنے والے اداکار عجب گل ، ارباز خان ، جہانگیر خان سمیت دیگر اداکار کی مارکیٹ 3 لاکھ سے زائد نہیں ہے یہ لوگ ایک فلم میں کام کرنے کے 2 سے ڈھائی لاکھ روپے لیتے ہیں ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صرف ایک گروپ ہے وہ سنیما کے مالک بھی ہیں وہ فلمیں بنارہے ہیں جس میں شاہد خان اداکار ہوتا ہے ان کے بھائی ارشد خان اسے ڈائریکٹ کرتے اور وہ اپنے ہی سنیما میں فلم کو چلاتے ہیں ۔

دوسری جانب پشتو فلموں کے اداکار شاہد خان نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں بتایا کہ پشتو فلم انڈسٹری کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے اور اب کرونا وائرس کی وباء کے ہونے والے لاک ڈاوں نے سارا کام روک دیا ۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال عید الفطر کے موقع پر 4 فلمیں ریلیز ہونی تھی جن میں فلم ’دا زخون حساب‘سمیت دو فلمیں مکمل طور پر تیار ہیں تاہم سنیما گھروں کی بندش کے باعث فلمیں ریلیز نہیں کی جاسکیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی لوگ پشتو فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں فلمیں سنیما گھروں میں لگیں گی لوگ ضرور دیکھنے آئیں ۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ایس او پیز کے ساتھ سنیما گھروں کو کھولنے کی اجازت دی جائے کیونکہ سنیما کی بندش سے آرٹسٹ سمیت سنیما میں کام کرنے والے ہزاروں غریب لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں ۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا پہلے ہی دہشتگردی کے باعث سنیما گھر ختم ہوگئے تھے تاہم اب حکومت پشتو فلم انڈسٹری کی ساتھ تعاون کرے اور نئے سنیما بنائے ۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube