Sunday, September 27, 2020  | 8 Safar, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

ارطغرل اچھا ڈرامہ ہے، یاسر حسین نے وضاحت کردی

SAMAA | - Posted: May 21, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: May 21, 2020 | Last Updated: 4 months ago

اداکار یاسر حسین نے کہا ہے کہ ارطغرل غازی اچھا ڈرامہ ہے مجھے اس ڈرامے کے مواد پر نہیں بلکہ ڈرامہ کو قومی ٹی وی پر نشر ہونے سے اعتراض ہے ۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے اداکار یاسر حسین کا کہنا تھا کہ ارطغرل ڈرامہ بہت اچھا اسکا کنٹنٹ (مواد ) بہت اچھا ہے اسلامی تاریخ کو دکھایا گیا جو ہماری اپنی تاریخ ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ایسا مواد عوام کو دکھایا جائے لیکن مجھے صرف اس ڈرامے کو نیشنل ٹی وی پر نشر کرنے پر تحفطات ہیں۔

وزیر اعظم کی ہدایت پر اسلامی تاریخ پر مبنی شہرہ آفاق ترک سیریز دیرلیش ار طغرل کو اردو زبان میں ڈب کر کے ارطغرل غازی کے نام سے رمضان میں سرکاری ٹی پر نشرکیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ قومی ٹی وی چینل کی پروڈکشن ایسی ہونی چاہیے کہ اس کا مواد پوری دنیا میں جائے اور ایشیا میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جو سب سے کم پیسوں میں سب سے اچھی پروڈکشن بناتا ہے یہاں تک کہ بھارت میں بھی ہماری پروڈکشن مقبول ہوئی ہیں۔

یاسر حسین کا کہنا تھا کہ اگر ترکی کا نیشنل ٹی ارطغرل جیسا ڈرامہ بناتا ہے تو ہمارے قومی ٹی وی چینل کو اپنے اداکاروں کو استعمال کرتے ہوئے ایسا ڈرامہ بنانا چاہیے اگر پہلے نشر کئے گئے ڈرامے کی 500 قسطیں دو سال تک چلائیں گے تو اس دوران چلنے والی پاکستانی ڈراموں کی 500 قسطیں رک جائیں گےجس سے ہمارے اداکار ٹیکنشین اور دیگر عملے کو کام نہیں ملے گا ۔

انہوں نے پاکستانی فلم دی لیجنڈ آف مولا کی جٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دی لیجنڈ آف مولا کا جب بھارت میں ٹریلر چلا تو وہ حیران ہوگئے کہ ہم نے اتنے کم بجٹ میں ہالی ووڈ کے طرز کی فلم بنا کیسے لی اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس صلاحیت موجود ہے جن کیمروں اور ایڈٹنگ ٹیکنالوجی کا استعمال ہم کر رہے ہیں وہی ہالی ووڈ بھی کررہا ہے ۔

انہوں دی لیجنڈ آف مولا جٹ کے ہدایتکار بلال لاشاری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی کو چاہیے بلال جیسے ہدایتکاروں کے ساتھ مل کر ایسا ایک تاریخی ڈرامہ بنائیں اور اپنے آرٹسٹ اور ٹیکنیشینز کو استعمال کریں، وہ آرٹسٹ جو ٹیکس دیتے ہیں اور قابلیت رکھتے ہیں ہم اپنا ارطغرل بنا سکتے ہیں جسے ڈب کرنے ضرورت نہیں ہوگی وہ ہماری اپنی زبان میں ہوگا۔

اداکار نے اپنی انسٹا اسٹوری کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈراموں کا معیار بہتر کرنا اداکار یا رائٹر کا کام نہیں ہے پی ٹی وی جیسے قومی ادارے کو ایسے بڑے پراجیکٹ کیلئے مالی معاونت کرنی چاہیے ہم پی ٹی وی کو ٹیکس دیتے تو ہمارے ٹیکس کے پیسے ہمارے ہی اداکاروں اور لوگوں پر خرچ ہونا چاہیے۔

گزشتہ دنوں نے اداکار نے اپنی ایک اور انسٹا اسٹوری میں کہا تھا کہ لنڈے کے کپڑے اور ترکی کے ڈرامے دونوں ہی مقامی انڈسٹری کو تباہ کر دیں گے، اس حوالے سے ان کا کہنا تھا لوگ میری بات سمجھ نہیں سکے لنڈے کے لفظ کے استعمال کا مطلب استعمال شدہ چیز سے تھا جیسے یہ کہ ڈرامہ پہلے پاکستانی چینل پر نشر کیا جاچکا ہے ۔

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جب 2 سال تک 8 سے 9 ایک ڈرامہ چلے گا تو اس دوران اس اوقات میں دوسرے ڈرامہ کو موقع نہیں ملے گا تو ان ڈراموں میں کام کرنے والے اداکار ٹیکنشینز کیا کریں گے ؟۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube